Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

کتاب القصاص

قصاص کابیان  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ قصاص قصٌ سے بنا بمعنی کاٹنا،برابر کرنا،کسی کے پیچھے چلنا،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَارْتَدَّا عَلٰۤی اٰثَارِہِمَا قَصَصًا"یہاں بمعنی پیچھے چلنا ہے۔حضور فرماتے ہیں"قصوا الشوارب"مونچھیں کاٹو برابر کرو۔اصطلاح میں قتل یا زخم میں برابری کرنے کو قصاص کہتے ہیں،نیز مقتول کا ولی یا مجروح  قاتل اور جارح کے پیچھے پڑتا ہے بدلہ لینے کے لیے لہذا پہلے معنے سے بھی یہ درست ہے۔

3446 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: النَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي وَالْمَارِقُ لدينِهِ التَّارِكُ للجماعةِ "

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کسی اس مسلمان کا خون حلال نہیں جو گواہی دیتا ہوکہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اﷲ کا رسول ہوں ۱؎ مگر تین حرفوں میں سے ایک سے،جان جان کے بدلے۲؎ شادی شدہ زانی ۳؎ اور اپنے دین سے نکل جانے والا جماعت کو چھوڑنے والا۴؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یہاں امرءٌ سے مراد مطلق انسان ہے مرد ہو یا عورت،صرف مرد مراد نہیں کیونکہ یہ احکام عورت پر بھی جاری ہیں۔کلمہ طیبہ کا ذکر فرما کر اشارۃً فرمایا کہ ظاہری کلمہ گو جس میں علامت کفر موجود نہ ہو اس کا یہی حکم ہے،مراد کلمہ سے سارے عقائد اسلامیہ کا اقرارکرنا ہے۔

۲؎ یعنی اگر کوئی مسلمان کسی کو عمدًا قتل کردے تو مقتول کا ولی اسے قصاصًا قتل کراسکتا ہے۔

۳؎ آزاد مسلمان مرد جو ایک بار حلال صحبت کرچکا ہو اسے محصن کہتے ہیں اگر ایسا شخص زنا کرلے تو اس کو رجم یعنی سنگسار کیا جائے گا۔

۴؎ دین سے نکل جانے کی دو صورتیں ہیں:یا تو اسلام کو چھوڑکر یہودی،عیسائی،ہندو وغیرہ دوسری ملت میں داخل ہوجائے یا کلمہ گو تو رہے مگر کوئی کفریہ عقیدہ اختیارکرے جیسے مرزائی،خارجی،رافضی وغیرہ بن جائے وہ بھی اگر توبہ نہ کرے تو قتل کیا جائے گا۔(از مرقات وغیرہ)مگر یہ قتل اور رجم حاکم اسلام کرسکتا ہے دوسرا نہیں کرسکتا۔اس حدیث سے معلوم ہواکہ غلام آزاد کے عوض اور آزاد غلام کے عوض،عورت مرد کے عوض اور مرد عورت کے عوض قتل کیا جائے گا،یہ ہی امام اعظم قدس سرہ کا مذہب ہے یہی امام اعظم کی دلیل ہے۔مارق مروق سے بنا بمعنی نکلنا،اسی واسطے شوربے کو مرق کہتے ہیں کہ وہ گوشت سے نکلتا ہے۔تارک الجماعت فرماکر ارشاد فرمایا کہ اجماع مسلمین کے خلاف عقیدہ اختیار کرنا کفر ہے،قرآن کریم کے وہ معنی کرنا جو اجماع کے خلاف ہوں کفر ہے،سب کا اجماع ہے کہ اقیموالصلوۃ میں صلوۃ سے مراد موجودہ اسلامی نماز ہے اور خاتم النبیین سے مراد آخری نبی ہے جو صلوۃ سے مراد صرف اشاروں سے دعا مانگنا کرے اور خاتم النبیین کے معنے کرے اصلی نبی اور پھر حضور کے بعدکسی نبی کے آنے کی گنجائش مانے وہ کافر ہے اسے حاکم اسلام قتل کرے گا۔

3447 -[2]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَنْ يَزَالَ الْمُؤْمِنُ فِي فُسْحَةٍ مِنْ دِينِهِ مَا لَمْ يُصِبْ دَمًا حَرَامًا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ مسلمان اپنے دین کی وسعت میں رہتا ہے جب تک کہ حرام خون نہ کرے ۱؎(بخاری)

 



Total Pages: 807

Go To