Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۱؎  آپ مشہور صحابی ہیں،بڑے شاعر تھے،آپ ان تین صحابہ سے ہیں جوغزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے جن کا بائیکاٹ کرایا گیا اور پھر ان کی توبہ قرآن پاک میں نازل ہوئی جس کا نام ہے سورۂ توبہ،یہ تین حضرات مرارہ ابن لوی،کعب ابن مالک،ہلال ابن امیہ ہیں ان تینوں کے ناموں کا پہلا حرف لفظ مکہ میں جمع ہے،میم سے مرارہ،کاف سے کعب، ہ سے ہلال کی طرف اشارہ ہے،یہ حضرات بڑے درجہ والے ہیں۔

۲؎ یعنی چونکہ رب تعالٰی نے میری توبہ قبول فرمائی،اس کے شکریہ میں مَیں اپنے پر لازم کرتاہوں کہ سارے مال سے علیٰحدہ ہوجاؤں سب مال خیرات کردوں۔خیال رہے کہ یہ نذرنہیں بلکہ شکریہ ہے مگر مشابہ نذر ہے اس لیے یہ حدیث اس باب میں لائی گئی۔

۳؎ یعنی اﷲ و رسول کو راضی کرنے کے لیے اپنا سارا مال صدقہ کرتا ہوں۔معلوم ہوا کہ عبادات میں اﷲ تعالٰی اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو راضی کرنے کی نیت شرک نہیں بلکہ سنت صحابہ ہے،دیکھو حضرت کعب حضور کی بارگاہ میں عرض کررہے ہیں اور حضور اس پر فتویٰ کفر نہیں دیتے بلکہ اس کو جائز رکھتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاللہُ وَرَسُوۡلُہٗۤ اَحَقُّ اَنۡ یُّرْضُوۡہُ

۴؎ یعنی سارا مال خیرات نہ کرو کچھ اپنی ضروریات کے لیے رکھو کچھ خیرات کرو تاکہ تم آج خیرات دےکر کل خیرات لینے کے لائق نہ بن جاؤ،چونکہ انہوں نے ارادۂ صدقہ کیا تھا اس کی نذر مانی تھی اس لیے سرکار نے ان کے ارادہ میں تبدیلی فرمادی۔جو شخص سارے مال کی خیرات کی نذر مان لے وہ چند دن کا خرچ رکھ کر سب کچھ خیرات کردے،پھر مال کما کر اس خرچہ کی بقدر بھی خیرات کردے جو اس نے رکھا تھا۔

۵؎ یعنی میری جو زمین وغیرہ خیبر میں ہے وہ اپنی ضروریات کے لیے رکھتا ہوں باقی مال صدقہ کرتا ہوں۔ خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہر شخص کی قلبی کیفیت سے خبردار ہیں،حضرت ابوبکر صدیق نے سارا مال خیرات فرمایا تو انہیں منع نہ کیا کہ صدیق اکبر مع اپنے بال بچوں کے زہدوقناعت کے اعلیٰ درجہ پر تھے، حضرت کعب اور آپ کے بال بچے اس درجہ پر ابھی نہ پہنچے تھے۔

مصرع      چشم توبینندہ مافی الصدور 

۶؎ جو مسلم،بخاری وغیرہم نے بہت تفصیل سے بیان کیا قصۂ توبہ،کعب ابن مالک خود صاحب مصابیح نے اپنی کتاب تفسیر معالم التنزیل نے بہت مفصّل نقل فرمایا،یہاں مصابیح میں بقدر ضرورت لائے اور اسے مسلم، بخاری کی طرف مسند فرماکر کفایت کی۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3435 -[10]

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ گناہ میں نذرنہیں ۱؎ اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۲؎ (ابوداؤد،ترمذی،نسائی)۳؎

۱؎ یعنی گناہ کی نذر کا پورا کرنا جائز نہیں کہ وہ نذر درست ہی نہیں ورنہ کفارہ واجب ہونے کے کیا معنے۔خلاصہ یہ ہے کہ وجوب نذر معصیت میں نہیں ہوتا کفارہ واجب ہوجاتا ہے۔

 



Total Pages: 807

Go To