Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

الفصل الثالث

تیسری فصل

3093 -[14]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمْ تَرَ لِلْمُتَحَابِّينَ مثل النِّكَاح» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دو محبت چاہنے والوں کے لیے نکاح جیسی کوئی چیز نہ دیکھی گئی ۱؎

۱؎ اس حدیث کی روایت دو طرح کی ہے لم تری مخاطب معروف کے صیغہ سے اور لم یُریٰ غائب مجہول کے صیغہ سے یعنی اے سننے والے تو نے نکاح کیطرح کوئی اور چیز محبت پیدا کرنے والی نہ دیکھی یا نہ دیکھی گئی۔مقصد یہ ہے کہ جن دو شخصوں یا خاندانوں میں محبت پیدا کرنی ہو تو ان کے آپس میں ایک دوسرے کے ہاں لڑکیاں بیاہ دو ان شاءاﷲ محبت پیدا ہوجائے گی،مثل مشہور ہے کہ روٹی بیٹی محبت کی جڑ ہے یا یہ مطلب ہے کہ محبت کے بعد نکاح بہت الفت کا ذریعہ ہے اسی لیے نکاح سے پہلے آپس میں ہدایا تحفے دیئے جاتے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ اگر کسی مرد کو کسی عورت سے محبت ہوجائے تو اس سے زنا نہ کرے کہ پھر بغض پیدا ہوجائے گا بلکہ نکاح کرے تب محبت دائمی رہے گی ( لمعات و اشعہ) خیال رہے کہ نکاح محبت کی زنجیر جب ہے جب کہ رضائے الٰہی کے لیے کیا جائے اگر محض مال و جمال کے لیے کیا جائے تو کبھی بغض وعدوات کا ذریعہ بھی ہوجاتا ہے،جیسا آج بہت جگہ دیکھا جارہا ہے حدیث صحیح ہے ہمارا طریق کا ر غلط ہے۔

3094 -[15]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَرَادَ أَنْ يَلْقَى الله طَاهِرا مطهراً فليتزوج الْحَرَائِر».رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو اﷲ تعالٰی سے پاک و صاف ملنا چاہتا ہو وہ آزاد عورتوں سے نکاح کرے ۱؎

۱؎ طاہر سے مراد ہے گناہوں سے پاک ،مطہر سے مراد ہے برائیوں سے صاف،لہذا مطہر بمقابلہ طاہر عام ہے،یا طاہر سے مراد ہے خود پاک اور مطہر سے مراد ہے اس کے بال بچے پاک یعنی اگر تم چاہتے ہو کہ تم مع اپنے خاندان کے پاک وصاف دنیا سے جاؤ تو آزاد عورت سے نکاح کرو کیونکہ عمومًا آزاد عورتیں بمقابلہ لونڈیوں کے زیادہ پاکیزہ مہذب اور شائستہ ہوتی ہیں بال بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت، گھر کا انتظام بھی آزاد عورت ہی سے اچھا ہوتا ہے کیونکہ عمومًا لونڈیاں غیر مہذب غیر منتظم ہوتی ہیں۔یہ اکثر قاعدہ ہے،اہلِ عرب کہتے ہیں کہ آزاد عورت گھر کی اصلاح ہے لونڈی گھر کا فساد،لونڈی گھر سے جا کر اپنے مالک کی خدمت میں مشغول رہے گی گھر کو کب سنبھالے گی۔

3095 -[16]

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَقُولُ: «مَا اسْتَفَادَ الْمُؤْمِنُ بَعْدَ تَقْوَى اللَّهِ خَيْرًا لَهُ مِنْ زَوْجَةٍ صَالِحَةٍ إِنْ أَمْرَهَا أَطَاعَتْهُ وَإِنْ نَظَرَ إِلَيْهَا سرته وَإِن أقسم عَلَيْهِ أَبَرَّتْهُ وَإِنْ غَابَ عَنْهَا نَصَحَتْهُ فِي نَفْسِهَا وَمَاله» . روى ابْن مَاجَه الْأَحَادِيث الثَّلَاثَة

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور فرماتے ہیں کہ مؤمن نے اﷲ سے خوف کے بعد نیک بیوی سے بہتر کوئی نعمت نہ پائی ۱؎ کہ اگر اس بیوی کو حکم دے تو وہ اس کی فرمانبرداری کرے ۲؎ اور اگر اسے دیکھے پسند آئے ۳؎ اور اگر اس پر قسم کھالے تو اس کی قسم پوری کرے ۴؎ اور اگر اس سے غائب ہو تو اپنی ذات اور خاوند کے مال میں خیر خواہی کرے ۵؎ یہ تینوں حدیثیں ابن ماجہ نے روایت کیں۔

 



Total Pages: 807

Go To