Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب فی النذور

نذروں کابیان ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  پہلے قسموں اور نذروں کا مشترک باب باندھا تھا اب نذر کے متعلق خصوصی مسائل بیان کررہے ہیں اسی لیے فی النذور فرمایا باب النذور نہ کہا،چونکہ نذر کی بہت قسمیں ہیں اس لیے اسے جمع فرمایا۔نذر کے معنے پہلے بیان ہوچکے کہ غیرواجب عبادت کو اپنے پر واجب کرلینا نذر ہے۔نذر شرعی میں یہ شرط ہے کہ ایسی چیز کی نذر مانی جائے جو کہیں نہ کہیں واجب ہو،جو چیزیں کہیں واجب نہ ہو اس کی نذر شرعی درست نہ ہوگی۔دوسرے یہ کہ وہ کام عبادت ہو۔تیسرے یہ کہ خالص اﷲ تعالٰی کے لیے ہوکسی بندے کے لیے نہ ہو کیونکہ نذر شرعی عبادت ہے اور عبادت صرف رب تعالٰی کی ہی ہوسکتی ہے،ہاں نذر لغوی بمعنے نذرانہ بندوں کی ہوسکتی ہے مگر اس کا پوراکرنا شرعًا واجب نہیں۔فاتحہ بزرگان،گیارھویں شریف کی نذر ماننا شرعی نذر نہیں لغوی نذر ہے،بمعنی نذرانہ و ہدیہ ثواب کا۔ایک لونڈی نے نذر مانی تھی کہ جب میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو غزوہ احد سے بخیریت واپس آئے ہوئے دیکھ لوں تو آپ کے سامنے دف بجاؤں،چنانچہ اس نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا  فرمایا اپنی نذر پوری کرو،یہ نذر لغوی تھی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی سلامتی پر خوشی منانا۔خیال رہے کہ حرام کام کی نذر تو درست نہیں اور وہ حرام کام ہرگز نہ کرے مگر اس پر کفارہ واجب ہے مثلًا کوئی شخص شراب یا جوئے کی نذر مانتا ہے یہ نذر درست نہیں اس پر ضروری ہے کہ یہ جرم ہرگز نہ کرے مگر کفارہ دینا ہوگا جیساکہ آئندہ اسی باب میں اس کے متعلق احادیث آرہی ہیں،یہ ہی احناف کا مذہب ہے۔

3426 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَنْذُرُوا فَإِنَّ النَّذْرَ لَا يُغْنِي مِنَ الْقَدَرِ شَيْئًا وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ من الْبَخِيل»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ اور ابن عمر سےفرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نذر نہ مانا کرو ۱؎  کیونکہ نذر تقدیر سے کچھ دفع نہیں کرتی بلکہ اس کے ذریعہ کنجوس سے کچھ دلوایا جاتا ہے ۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی بات بات پر نذر مان لینے کے عادی نہ بنو کہ پھر نذر پوراکرنا مشکل و بھاری معلوم ہوتا ہے یا نذر میں یہ اعتقاد نہ رکھو کہ نذر سے ارادۂ الٰہی و حکم ربانی بدل جاتا ہے کہ یہ عقیدہ غلط ہے یا صدقہ و خیرات صرف نذر کی صورت میں ہی نہ کیا کروکہ جب کوئی اٹکا تو نذر مانی اور کام نکل جانے پر خیرات کی بلکہ یوں ہی صدقہ کرنے کی بھی عادت ڈالو لہذا یہ نذر سے ممانعت نہیں بلکہ ان چیزوں سے ممانعت ہے لہذا یہ حدیث ان آیات کے خلاف نہیں جن میں نذر پوری کرنے والوں کی تعریف کی گئی ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"یُوۡفُوۡنَ بِالنَّذْرِ"اور حضرت حنہ کا واقعہ بیان فرمایا ہے:"اِنِّیۡ نَذَرْتُ لَکَ مَا فِیۡ بَطْنِیۡ"اور حضرت مریم کو نذر کا حکم دینا بیان فرماتاہے:"اِنِّیۡ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا"صحابہ کرام نے نذریں مانی ہیں لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ لا تنذروا نہی ہے اور نہی حرمت پیدا کرتی ہے تو چاہیے کہ نذر ماننا حرام ہو اور حرام کا پورا کرنا واجب تو کیا مباح بھی نہیں ہوتا  غرضکہ حدیث صاف ہے۔

۲؎ یعنی کنجوس لوگ ویسے خیرات نہیں کرتے بلکہ مصیبت پڑ جانے پر معاوضہ کی شکل میں خیرات کرتے ہیں،سخی لوگ ہر حال میں خیرات کرتے رہتے ہیں،وہ رب تعالٰی کی رضا کے لیے خیرات کرتے ہیں نہ کہ کسی معاوضہ اور بدلہ میں۔

 



Total Pages: 807

Go To