Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

دلیل ہے،ہمارے امام اعظم کے نزدیک قسم لغو یہ ہے کہ کسی بات پر اسے سچ سمجھ کر قسم کھائے مگر وہ ہو جھوٹ جیسے کسی کو زید کے آجانے کایقین تھا وہ کہے قسم خدا کی زید آگیا لیکن وہ آیا نہ تھا،یہ قسم لغو ہے حضرت عبداﷲ ابن عباس نے قسم لغو کی یہ ہی تفسیر فرمائی امام اعظم و امام احمد کا یہ ہی مذہب ہے لہذا ہمارے ہاں  اگر بغیر قصد قسم نکل جانے پر قسم کے احکام جاری ہوں گے مثلًا عادت کے طور پر کہہ دے واﷲ میں جاؤں گا واﷲ کھاؤں گا اگر نہ جائے نہ کھائے تو کفارہ واجب ہوگا اگرچہ قسم کی نیت سے واﷲ نہ کہا ہو،نذر کا بھی یہ ہی حکم ہے کہ بغیر قصد نذر کے الفاظ جاری ہونے سے نذر ہوجاتی ہے کیونکہ بعض احادیث میں ہے کہ تین چیزیں عمدًا ہوں تب بھی درست ہیں خطاء یا بھول کر ہوں جب بھی درست،نکاح،طلاق اور قسم۔امام شافعی فرماتے ہیں کہ حدیث میں ہے کہ میری امت سے خطاء و نسیان اٹھالیے گئے تو خطاء کی قسم پر احکام کیسے ؟ مگر یہ کمزور سی بات ہے کیونکہ خطاء ونسیان  پر سزا اٹھالی گئی نہ کہ احکام پر ، روزے میں خطاء پانی پی لینے سے روزہ جاتا رہتا ہے اگرچہ اس پر گناہ نہیں ایسے خطاء قسم پر گناہ نہیں احکام مرتب ہیں۔اس کی پوری بحث فتح القدیر میں اور مرقات میں اسی جگہ دیکھئے۔

۲؎ یعنی شرح سنہ میں اس حدیث کے وہ الفاظ منقول ہیں جو مصابیح میں نقل فرمائے، وہ یہ ہیں قالت لغو الیمین قول الھمان لا واﷲ وبلی واﷲ۔(اشعہ)

۳؎  یعنی امام بغوی نے شرح سنہ میں فرمایا کہ بعض محدثین نے یہ حدیث عائشہ مرفوعًا حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے نقل فرمائی۔خیال رہے کہ مجبور کی قسم ہمارے ہاں معتبر ہے اس پر احکام جاری ہیں،امام شافعی و احمد کے ہاں معتبر نہیں،ان کی دلیل دار قطنی کی وہ حدیث ہے جو واثلہ ابن اسقع وابی امامہ سے منقول ہے لیس علی مقہور یمین مگر یہ حدیث منکر بلکہ موضوع ہے۔(مرقات)

الفصل الثانی

دوسری فصل

3418 -[13]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ وَلَا بِأُمَّهَاتِكُمْ وَلَا بِالْأَنْدَادِ وَلَا تَحْلِفُوا بِاللَّهِ إِلَّا وَأَنْتُمْ صَادِقُونَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہ اپنے باپ دادوں کی قسم کھاؤ اور نہ اپنی ماؤں کی اور نہ بتوں کی ۱؎ اور اﷲ کی قسم نہ کھاؤ  مگر جب کہ تم سچے ہو ۲؎( ابوداؤد،نسائی)

۱؎ یعنی نہ اپنے اصول کی قسم کھاؤ جن کی اولاد میں تم ہو اور نہ فروع کی قسم کھاؤ جو تمہاری اولاد میں بیٹے پوتے نواسے وغیرہ،نہ مال وغیرہ کی قسم کھاؤ اور نہ بتوں کی قسم کھاؤ جیسا کہ مشرین کا طریقہ ہے،انداد جمع ہے ند کی بمعنی مقابل۔

۲؎ یعنی اﷲ تعالٰی کی ذات و صفات کی قسم کھانا جائز ہے مگر سچی قسم،جھوٹی قسم کھانا حرام ہے،جس پر گناہ یا کفارہ واجب ہے، یہ شرعی قسم کے احکام ہیں،لغوی قسم بمعنی تاکید کلام،یہ ماں باپ اولاد وغیرہ کی بھی جائز ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ارشاد ہوا افلح و ابی قرآن کریم میں جو قسمیں ارشاد ہوئیں وہ لغوی قسم کی ہیں،بتوں کی قسم نہ لغوی جائز ہے نہ شرعی کہ اس میں ان کی تعظیم ہے اور بت کی تعظیم حرا م بلکہ کفر ہے۔

3419 -[14]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ أَشْرَكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو کوئی غیر خدا کی قسم کھائے اس نے شرک کیا ۱؎ (ترمذی)

 



Total Pages: 807

Go To