Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب الایمان والنذور

قسموں اورمنتوں کا بیان  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  ایمان یمین کی جمع ہے یمین بمعنی داہنی جانب،یسار کی مقابل بمعنی بائیں جانب،چونکہ اہل عرب عمومًا قسم کھاتے یا قسم لیتے وقت ایک دوسرے سے داہنا ہاتھ ملاتے تھے اس لیے قسم کو یمین کہنے لگے۔یا یمین بنا یمن سے بمعنی برکت وقوت سے چونکہ قسم میں اﷲ تعالٰی کا بابرکت نام بھی لیتے ہیں اور اس سے اپنے کلام کو قوت دیتے ہیں اس لیے اسے یمین کہتے ہیں بمعنی بابرکت وقوت والی گفتگو۔قسم تین قسم کی ہوتی ہیں:قسم لغو،قسم غموس،قسم منعقدہ۔منعقدہ قسم توڑنے پر کفارہ واجب ہوتا ہے بشرطیکہ اللہ کے نام کی کھائی گئی ہو اور قسم غموس میں صرف گناہ ہے اور قسم لغو میں نہ گناہ ہے نہ کفارہ۔نذور جمع ہے نذر کی بمعنی ڈرانا،اسی سے ہے نذیر کسی غیر واجب عبادت کو اپنے ذمہ واجب کرلینا نذر ہے خواہ کسی شرط پر معلق ہو یا نہ ہو گناہ کی نذر ماننے میں کفارہ قسم کا ہوتا ہے۔ قسموں اور نذروں کی مکمل بحث کتب فقہ میں ہے ہم بھی آئندہ بقدر ضرورت عرض کریں گے نذر کا ثبوت قرآن کریم سے ہے"اِنِّیۡ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا"اور قرآن کریم میں ہے"اِنِّیۡ نَذَرْتُ لَکَ مَا فِیۡ بَطْنِیۡ"وغیرہ۔

3406 -[1]

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَكْثَرُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يحلف: «لَا ومقلب الْقُلُوب» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں زیادہ قسم جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے تھے یہ تھی ۱؎ کہ قسم ہے دلوں کو بدلنے والے کی ۲؎(بخاری)

۱؎ اس عبارت میں اکثر مبتداء ہے ما مصدریہ اور یہاں وقت پوشیدہ ہے کان تامہ ہے یحلف قائم مقام خبر اور لاو مقلب القلوب یحلف کا مفعول بہ جیسے نحوی لوگ کہتے ہیں اخطب مایکون الامیر قائما۔غرضکہ جملہ کی ترکیب پیچیدہ ہے۔

۲؎ لا کسی گزشتہ کلام کی نفی ہے واؤ قسمیہ ہے مقلب القلوب اﷲ تعالٰی کا صفاتی نام ہے۔ معلوم ہوا کہ اسماء صفاتیہ سے بھی قسم کھانا جائز ہے۔

3407 -[2] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ ليصمت»

روایت ہے انہی سے کہ رسول اﷲ نے فرمایا اﷲ تعالٰی تم کو اپنے باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع فرماتا ہے ۱؎ جو قسم کھانا چاہے تو اﷲ کی قسم کھائے یا خاموش رہے ۲؎(مسلم)

۱؎ یعنی غیر خدا کی قسم کھانے سے منع فرمایا گیا،چونکہ اہل عرب عمومًا باپ دادوں کی قسم کھاتے تھے اس لیے اسی کا ذکر ہوا،غیر خدا کی قسم کھانا مکروہ ہے،وہ جو حدیث شریف میں ہے افلح و ابی یعنی قسم میرے والد کی وہ کامیاب ہوگیا وہ قسم شرعی نہیں محض تاکید کلام کے لیے ہے اور یہاں شرعی قسم سے ممانعت ہے یا وہ حدیث اس حدیث سے منسوخ ہے یا وہ بیان جواز کے لیے ہے یہ حدیث بیان کراہت کے لیے۔(مرقات)

 



Total Pages: 807

Go To