Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

کے کسی امام نے اس پر عمل نہیں کیا سب کے ہاں ایسا مکاتب نہ اپنے کسی عزیز کا وارث ہو اور نہ اس کی دیت وارثوں کو دی جائے بلکہ اس کی پوری قیمت مولے کو دی جائے گی۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3403 -[16]

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ: أَنَّ أُمَّهُ أَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ فَأَخَّرَتْ ذَلِكَ إِلَى أَنْ تُصْبِحَ فَمَاتَتْ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَقُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ: أَيَنْفَعُهَا أَنْ أَعْتِقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ الْقَاسِمُ: أَتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَقَالَ: " إِنَّ أُمِّي هَلَكَتْ فَهَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أَعْتِقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نعم» . رَوَاهُ مَالك

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن ابو عمر انصاری سے ۱؎ کہ ان کی ماں نے آزاد کرنا چاہا پھر صبح تک دیر لگائی وہ فوت ہو گئیں۲؎ عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے قاسم ابن محمد سے پوچھا کہ اگر میں ان کی طرف سے آزاد کردوں تو کیا انہیں نفع دے گا۳؎ تو قاسم بولے کہ سعد ابن عبادہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئےعرض کیا کہ میری ماں وفات پاچکیں کیا انہیں نفع دے گا یہ کہ میں ان کی طرف سے آزاد کردوں تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہاں ۴؎(مالک)

۱؎ عبدالرحمن تابعی ہیں،ثقہ ہیں،قاضی مدینہ منورہ ہیں،ان کی احادیث مضطرب ہوتی ہیں،ان کے والد کا نام عمرو ابن حصین ہے یا ثعلبہ ابن عمرو ابن حصین وہ صحابی ہیں۔(اشعہ و مرقات)ان کی والدہ کا نام معلوم نہ ہوسکا مگر وہ صحابیہ نہیں تابعیہ ہیں۔

۲؎ یعنی شام کے وقت لونڈی یا غلام آزاد کرنا چاہا مگر کہا کہ صبح آزاد کروں گی  رات میں اچانک فوت ہوگئیں،اسی لیے علماء فرماتے ہیں کہ نیکی میں جلدی کرے دیر نہ لگائے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَسَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمْ"۔

۳؎ یعنی میں نے حضرت قاسم ابن محمد ابن ابوبکر صدیق سے مسئلہ پوچھا کہ اگر اب ان کی طرف سے میں غلام آزاد کردوں تو کیا انہیں ثواب ملے گا۔

۴؎ حضرت قاسم نے مسئلہ نہ بتایا بلکہ مسئلہ کی دلیل بتادی۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جیسے صدقہ و خیرات و نفل نماز کا ثواب کسی کو بخشنا جائز ہے یوں ہی غلام لونڈی آزاد کرکے اس کا ثواب بخش دینا بھی جائز ہے اور یہ ثواب میت کو ضرور پہنچتا ہے۔

3404 -[17]

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: تُوُفِّيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فِي نَوْمٍ نَامَهُ فَأَعْتَقَتْ عَنْهُ عَائِشَةُ أُخْتُهُ رِقَابًا كَثِيرَةً. رَوَاهُ مَالك

روایت ہے حضرت یحیی ابن سعید سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن ابن ابوبکر سوتے میں وفات پاگئے ۲؎ ان کی بہن عائشہ صدیقہ نے انکی طرف سے بہت غلام آزاد کیے۳؎(مالک)

۱؎ آپ انصاری ہیں تابعی ہیں،آپ سے امام مالک ہشام ابن عروہ،سفیان ثوری جیسے آئمہ حدیث نے احادیث لی ہیں بڑے عالم متقی صالح شب بیدار عبادت گزار تھے۔

۲؎ آپ عائشہ صدیقہ کے بھائی ہیں،صلح حدیبیہ کے سال ایمان لائے،اسلام سے پہلے ان کا نام عبد الکعبہ یا عبد العزی تھا بعد اسلام عبد الرحمن نام رکھا گیا صدیق اکبر کی سب اولاد میں آپ ہی بڑے ہیں سوتے میں اچانک وفات پا گئے۔

 



Total Pages: 807

Go To