Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۹؎ اگر قرابتداروں کو خرچہ دے کر بھی بچ رہے یا ان میں کوئی غریب ہو ہی نہیں تو دوسرے کار خیر میں خرچ کرو،فقراء کو خیرات، مسجد،سبیل،طلباء پر خرچ۔خیال رہے کہ مدبر مقید مولیٰ کی زندگی میں تو مدبر نہیں ہوتا لیکن اگر مولیٰ اس ہی شرط پر مرے جس پر مدبر کیا تھا تو اب وہ مدبر آزاد ہوجائے گا گویا یہ تدبیر بالشرط ہے مثلًا کہا تھا کہ اگر میں اس سال میں یا اس مرض میں مرجاؤں تو تو آزاد ہے تو مولیٰ کے جیتے جی وہ مدبر نہیں لیکن اگر وہ اسی سال یا اسی مرض میں مرگیا تو اب وہ مدبر آزاد ہے کہ شرط آزاد پائی گئی۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3393 -[6]

عَن الْحسن عَن سَمُرَة عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «من ملك ذَا رحم محرم فَهُوَ حُرٌّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

روایت ہے حضرت خواجہ حسن بصری سےوہ حضرت سمرہ سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا جو اپنے ذی رحم محرم کا مالک ہوجائے ۱؎ تو وہ آزاد ہے ۲؎ (ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)۳؎

۱؎ ذی رحم وہ قرابتدار ہے جس سے نسبی رشتہ ہو اور محرم وہ جس سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو لہذا داماد محرم تو ہے مگر ذی رحم نہیں اور چچا زاد بھائی ذی رحم ہیں مگر محرم نہیں اور باپ بھائی بھتیجے چچا وغیرہ ذی رحم بھی ہیں محرم بھی۔

۲؎ یعنی اگر کوئی شخص اپنے ذی رحم محرم کو خرید لے یا کسی اور طرح اس کی ملکیت میں آجائے تو آتے ہی آزاد ہوجائے گا یہ ہی مذہب ہے جمہور صحابہ و تابعین کا ،یہ ہی قول ہے امام اعظم ابو حنیفہ واحمد کا رضی اﷲ عنہم، امام شافعی کے ہاں اپنے اصول و فروع کا تو یہ حکم ہے باقی بھائی بہن وغیرہ ذی رحم کا یہ حکم نہیں مگر قوی قول امام اعظم کا ہے جیسا کہ اس حدیث کے اطلاق سے معلوم ہوا۔

۳؎ اس حدیث کو احمد و حاکم نے باسناد صحیح نقل فرمایا،نیز حضرت عمر سے موقوفًا بھی مروی ہے ،نسائی نے حضرت ابن عمر سے مرفوعًا نقل فرمائی،سنن اربعہ نے حضرت سمرہ سے مرفوعًا روایت کی،طحاوی شریف نے حضرت عمرو ابن عمر سے مرفوعًا روایت کی۔مبسوط میں حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ میرا بھائی بازار میں فروخت ہورہا تھا میں نے اسے خریدلیا میں چاہتا ہوں کہ اسے آزاد کردوں،حضور نے فرمایا اسے تو اﷲ تعالٰی نے ہی آزاد کردیا،بہرحال یہ حدیث بے شمار اسنادوں سے مروی ہے عام صحابہ کرام کا اس پر عمل رہا۔(مرقات و لمعات وغیرہ)

3394 -[7]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا وَلَدَتْ أَمَةُ الرَّجُلِ مِنْهُ فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ أَوْ بَعْدَهُ» . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ جب کسی کی لونڈی اس سے بچہ جن دے تو وہ اس کے پیچھے یا اس کے مرے بعد آزاد ہے ۱؎ (دارمی)

۱؎ یعنی جب کوئی شخص اپنی لونڈی سے صحبت کرے اور اس سے بچی یا بچہ پیدا ہوجائے تو یہ لونڈی مدبر غلام کے حکم میں ہے کہ اس کے مرے بعد آزاد ہوگی۔عن دبراو بعدہ کسی راوی کے شک کی بنا پر ہے یعنی مجھے خیال نہیں کہ حضرت ابن عباس نے عن دبرمنہ روایت فرمائی یا فرمایا بعدہ دونوں عبارتوں کا مطلب ایک ہی ہے۔ اس سے معلوم ہواکہ ام ولد کی بیع یا ہبہ یا وصیت



Total Pages: 807

Go To