Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۴؎  اس طرح کہ اپنی ساری زندگی اسلام میں جہاد میں،حج میں،طلب علم میں گزارے،فی سبیل اﷲ بہت عام ہے،معلوم ہوا کہ پرانا مسلمان نو مسلم سے اس لحاظ سے افضل ہے۔

۵؎ اس طرح کہ اس کا منہ قیامت کے دن نورانی ہوگا اور وہاں کی تاریکیوں سے نجات پائے گا کیونکہ دنیا میں کبھی کفر و معصیت کی تاریکیوں میں نہیں پھنسا۔

۶؎ خیال رہے کہ یہ حدیث مجموعی طور پر بروایت عمرو ابن عبسہ صرف شرح سنہ میں ہی ہے مگر متفرق طور پر مختلف راویوں سے مسلم،بخاری،ترمذی،احمد،ابن ماجہ،طبرانی،جامع صغیر وغیرہ میں ہے لہذا صاحب مشکوۃ کا صرف شرح سنہ کا حوالہ دینا مجموعی حدیث سے لحاظ سے ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3386 -[5]

عَن الغريف بن عَيَّاش الديلمي قَالَ: أَتَيْنَا وَاثِلَة بن الْأَسْقَع فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا حَدِيثًا لَيْسَ فِيهِ زِيَادَةٌ وَلَا نُقْصَانٌ فَغَضِبَ وَقَالَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَقْرَأُ وَمُصْحَفُهُ مُعَلَّقٌ فِي بَيْتِهِ فَيَزِيدُ وَيَنْقُصُ فَقُلْنَا: إِنَّمَا أَرَدْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فَقَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَاحِبٍ لَنَا أَوْجَبَ يَعْنِي النَّارَ بِالْقَتْلِ فَقَالَ: «أعتقوا عَنهُ بِعِتْق الله بِكُل عُضْو مِنْهُ عُضْو أَمنه من النَّار» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت غریف ابن دیلمی سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم واثلہ ابن اسقع کے پاس گئے ۲؎ ہم نے عرض کیا کہ ہم کو وہ حدیث سنائیے جس میں کمی بیشی نہ ہو تو وہ ناراض ہوگئے اور فرمایا تم  میں سے کوئی تلاوت کرتا ہے اور اس کا قرآن اس کے گھر میں لٹکا ہوتا ہے تو کیا وہ کمی بیشی کردیتا ہے ؟۳؎ ہم بولے کہ ہمارا مطلب یہ ہے کہ وہ حدیث سنایئے جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے سنی ہو ۴؎ تو فرمانے لگے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے معاملے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کرکے اپنے لیے دوزخ واجب کرلی تھی ۵؎ تو فرمایا اس کی طرف سے غلام آزاد کرو اﷲ اس کے ہر عضو کے عوض اس کا عضو آگ سے آزاد کردے گا ۶؎(ابوداؤد،نسائی)

۱؎  آپ کا لقب غریف ابن عیاش ابن فیروز د یلمی ہے، نام عبداﷲ ہے، تابعین میں سے ہیں، ثقہ و مقبول الحدیث ہیں۔

۲؎  آپ مشہور صحابی ہیں،واثلہ ابن اسقع لیثی اس وقت ایمان لائے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم غزوہ تبوک کی تیاری کررہے تھے۔ آپ اہل صفہ میں سے ہیں،تین سال حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت کی،بصرہ میں رہے،آخر عمر میں دمشق سے تین میل دور قریہ بلاط میں رہے، پھر بیت المقدس میں انتقال فرمایا،پورے سو سال عمر پائی۔

۳؎ مقصد یہ ہے کہ بالکل غلطی نہ ہونا طاقت انسان سے باہر ہے،دیکھو باوجود یہ کہ تلاوت قرآن دن رات کی جاتی ہے اور لکھا ہوا قرآن گھر میں رکھا رہتا ہے،دن رات دیکھا جاتا ہے پھر بھی اس میں غلطی ہوجاتی ہے یہ تو حدیث شریف ہے جس کی نہ تلاوت اس قدر اہتمام سے ہو نہ وہ کتابی شکل میں لکھی ہوئی ہمارے پاس موجود ہے پھر بالکل زیادتی کمی نہ ہونا کیسے ہوسکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ روایت حدیث بالمعنی اور حدیث میں ایسی زیادتی کمی جس سے مقصد نہ بدلے درست ہے اس پر صحابی کرام کا عمل ہے۔(مرقات)

 



Total Pages: 807

Go To