Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

کتاب العتق

آزادی کا بیان ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  ع ت  ق کی ترکیب آگے ہونے اور تقدم کے لیے ہے کہ ان حرفوں میں آگے ہونے کے معنے ملحوظ رہتے ہیں۔چنانچہ کندھے کے اگلے حصہ کو عاتق کہتے ہیں، پرانی چیز کو عتیق کہا جاتا ہے اسی لیے بیت اﷲ کو بیت العتیق کہتے ہیں، ابوبکر صدیق کا لقب عتیق ہے کہ ابوبکر کے معنے اولیت والے،ابو معنے والے بکر معنے اولیت،عتیق کے معنے بھی پرانے یا اول مؤمن اب اس کا استعمال چند معنے میں ہوتاہے:کرم،جمال،شرافت،آزادی و حریت مگر ان سب میں تقدم کے معنے بھی، یہاں حریت یعنی آزاد کرنے کے معنے میں ہے۔ غلام حکمًا مردہ ہوتا ہے کہ غلامی کفر کا اثر ہے اور کفر گویا موت ہے،قرآن کریم میں کافر کو مردہ فرمایا گیا ہے اسی لیے غلام نہ اپنا نکاح خود کرسکتا ہے نہ اپنی اولاد کا ولی ہوسکتا ہے، نہ اپنے مال میں تصرف کرسکے نہ قاضی یا گواہ بن سکے، نہ اس پر نماز جمعہ، عیدین،حج،جہاد وغیرہ واجب،گویا بالکل مردہ ہے اسے آزاد کرنا گویا مردہ زندہ کرنا ہے،اسی لیے اعتاق کے بہت فضائل ہیں،غلام آزاد کرنا عمومًا مستحب ہے مگر کبھی واجب بھی ہوجاتا ہے جیسے کفارات میں, کبھی ممنوع بھی جب کہ خطرہ ہو وہ آزاد ہو کر مرتد یا چور ڈاکو وغیرہ بن جائے گا۔اعتاق کی شرط یہ  ہے کہ آزاد کرنے والا خود آزاد ہو،بالغ ہو،غلام کا مالک ہو۔عتق یعنی آزادی اختیاری بھی ہوتی ہے غیر اختیاری بھی،چنانچہ جو شخص ذی رحم قرابت دار کا مالک ہوجائے تو وہ فورًا آزادہوجائے گا۔

3382 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنَ النَّارِ حَتَّى فَرْجَهُ بِفَرْجِهِ»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےفرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو مسلمان گردن کو آزاد کرے ۱؎ تو اﷲ تعالٰی اس کے ہر عضو کے عوض اس کا عضو آگ سے آزاد فرمائے گا ۲؎ حتی کہ شرمگاہ کے بدلہ شرمگاہ ۳؎(مسلم،بخاری)۴؎

۱؎  مسلمان کی قید لگانے سے معلوم ہوا کہ مسلمان غلام کا آزاد کرنا بہتر ہے اس کا ثواب زیادہ پھر بمقابلہ فاسق غلام کے متقی پرہیز گار غلام کا آزاد کرنا افضل۔حضرت ابوبکر صدیق نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو آزاد فرما کر دین و دنیا میں وہ مرتبہ پایا کہ سبحان اﷲ! سورۂ واللیل شریف اسی آزادی کے فضائل بیان فرمارہی ہے۔حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ابوبکر نے بلال کو آزاد فرماکر مجھ پر احسان کیا،امام مالک فرماتے ہیں کہ سستے مسلمان غلام کو آزاد کرنے سے قیمتی کافر غلام کا آزاد کرنا افضل ہے،یہ حدیث ان کے خلاف ہے غرضکہ جس قدر آزاد ہونے والا غلام افضل ہوگا اسی قدر آزاد کرنے والے کا درجہ اعلیٰ اسی لیے اولاد اسماعیل کے غلام کو آزاد کرنے کے بڑے فضائل ہیں،یہاں اس پر مرقات میں بہت اچھی بحث فرمائی۔

۲؎ یعنی اس کا ہر عضو آزاد کرنے والے کے اعضاء کا فدیہ بن جائے گا جیسے قربانی یا عقیقہ کے جانور کے اعضاء دینے والے کے اعضاء کا فدیہ بن جاتے ہیں اسی لیے عقیقہ پر پڑھا جاتاہے ولہا بددنہ لحملھا بلحمہ شعرھا بشعرہ بہرحال غلام آزاد کرنا بہترین عمل ہے جب کہ رضائے الٰہی کے لیے ہو۔

 



Total Pages: 807

Go To