Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

3088 -[9] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ جَابِرٍ: قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ فَلَمَّا قَفَلْنَا كُنَّا قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بعرس قَالَ: «تَزَوَّجْتَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «أَبِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ؟» قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبٌ قَالَ: «فَهَلَّا بِكْرًا تلاعبها وتلاعبك» . فَلَمَّا قدمنَا لِنَدْخُلَ فَقَالَ: «أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلًا أَيْ عشَاء لكَي تمتشط الشعثة وتستحد المغيبة»

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک جہاد میں تھے تو جب ہم لوٹے مدینہ منورہ سے قریب ہوئے تو میں نے عرض کیا یارسول اﷲ میں نیا شادی شدہ ہوں ۱؎ فرمایا کیا تم نے نکاح کرلیا میں نے عرض کیا ہاں فرمایا کنواری سے یا بیوہ سے میں نے کہا بلکہ بیوہ سے،فرمایا کنواری سے کیوں  نہ کیا کہ اس سے پوری الفت کرتے وہ تم سے پوری محبت کرتی ۲؎ پھر جب ہم پہنچ گئے اور گھر جانے لگے تو فرمایا ٹھہروتا کہ ہم رات میں یعنی عشاء کے وقت داخل ہوں ۳؎ تاکہ پراگندا بال کنگھی سے سلجھائے جائیں اور پوشیدہ جگہ صاف کرلی جائے لوہے سے ۴؎(مسلم،بخاری)

۱؎ کسی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت جابر کے نکاح میں شرکت نہ کی ہوگی اور انہوں نے ابھی تک حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو اس کی خبر نہ کی تھی اس کا موقعہ نہ ملا تھا ورنہ علی العموم صحابہ کرام ایسے موقعوں میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی شرکت ضروری سمجھتے تھے۔

۲؎ یعنی بہتر تھا کہ تم کسی کنواری عورت سے نکاح کرتے کیونکہ بیوہ عورت کے دل میں پہلے خاوند اور پہلی سسرال کا خیال رہتا ہے ذرا سی تکلیف میں ان لوگوں کو یاد کرتی ہے اس لیے خاوند سے الفت جیسی کنواری عورت کو ہوتی ہے ویسے بیوہ کو نہیں ہوتی۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا خود آپ بیوگان سے نکاح فرمانا دوسری مصلحتوں کی بنا پر تھا،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے سوائے عائشہ صدیقہ کے کسی کنواری بیوی سے نکاح نہ کیا۔اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ کنواری لڑکی سے نکاح کرنا مستحب ہے یہ ہی فقہاء فرماتے ہیں، دوسرے یہ کہ اپنی عورت سے ملاعبت وخوش طبعی بہتر ہے کہ اس میں صدہا حکمتیں ہیں ۔

۳؎  یعنی اپنے گھر،اپنے مدینہ پہنچ جانے کی اطلاع تو بھیج دو،مگر رات آنے سے پہلے خود نہ جاؤ،جس حدیث میں فرمایا کہ رات میں سفر سے واپس گھر نہ پہنچو،وہاں بغیر اطلاع پہنچنا مراد ہے سنت یہ ہے کہ مسافر پہلے اپنے گھر اپنی آمد کی اطلاع بھیجے پھر وہاں پہنچے۔

۴؎ یعنی اس تاخیر میں مصلحت یہ ہے کہ تمہاری بیوی تمہاری آمد کی اطلاع پا کر نہا دھو لے گی بالوں میں کنگھی،اندرونی صفائی کرلے گی جس سے تم اسے اچھی حالت میں پاؤ گے اور اس  سے آپس کی محبت بڑھے گی،کبھی اچانک گھر پہنچ جانے سے بیوی کو ایسی حالت میں دیکھنا ہوتا ہے کہ طبیعت میں گھن و نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔خیال رہے کہ عمومًا عورتیں استرے سے اندرونی صفائی نہیں کرتیں بلکہ چونا وغیرہ سے کرتی ہیں اسی لیے محدثین نے تستحد سے مراد لی ہے چونا وغیرہ سے صفائی کرلینا۔ اس حدیث سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کو اندرونی صفائی کے لیے استرہ کا استعمال کرنا جرم نہیں۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3089 -[10]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَوْنُهُمْ: الْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ وَالْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تین شخصوں کی مدد فرمانا اﷲ کے ذمہ کرم پر لازم ہے ۱؎ وہ مکاتب غلام جو ادا کا ارادہ رکھتا ہو ۲؎ وہ نکاح کرنے والا جو پاکدامنی کا ارادہ کرے ۳؎ اور اﷲ کی راہ میں جہاد کرنے والا غازی ۴؎ ( ترمذی، نسائی،ابن ماجہ )

 



Total Pages: 807

Go To