Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

3379 -[4]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ غُلَامًا بَيْنَ أَبِيهِ وَأمه. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک لڑکے کو ۱؎  اس کے ماں باپ کے درمیان اختیار دیا۲؎(ترمذی)

۱؎ لڑکے سے مراد بالغ لڑکا ہے مجازًا اسے غلام فرمایا گیا ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاٰتُوا الْیَتٰمٰۤی اَمْوٰلَہُمْ"یا باہوش سمجھ دار بچہ مراد ہے۔(مرقات)

۲؎  یہ حدیث امام شافعی کی دلیل ہے ان کے ہاں سمجھ دار بچے کو اختیار دیا جاتاہے،ہمارے ہاں سات سال کا سمجھ دار بچہ باپ کو ملے گا کیونکہ اب اس کی تربیت و تعلیم کا زمانہ ہے یہ کام باپ ہی کرسکتا ہے،ہماری دلیل وہ حدیث ہے کہ اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہوجائیں باپ نماز کا حکم اسے جب ہی دے سکتا ہے جب بچہ اس کی پرورش میں ہو ہمارے ہاں یہ حکم خصوصی یا منسوخ ہے۔

3380 -[5]

وَعنهُ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي وَقَدْ سَقَانِي وَنَفَعَنِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ» . فَأَخَذَ بِيَدِ أُمِّهِ فَانْطَلَقَتْ بِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں ایک عورت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئی بولی کہ میرا خاوند ۱؎ میرے بچے کو لے جانا چاہتا ہے یہ بچہ مجھے پانی پلاتا ہے،مجھے نفع پہنچاتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے ان میں سے جس کو چاہے ہاتھ پکڑ لے تو بچے نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا وہ اسے لے گئی ۲؎(ابوداؤد،نسائی،دارمی)

۱؎ یہاں خاوند مجازی معنے میں ہے یعنی جو میرا خاوند تھا ورنہ اب تو یہ عورت مطلقہ ہوچکی تھی۔

۲؎ اس کی تحقیق ابھی ہوچکی کہ یہ حدیث امام شافعی و احمد کی دلیل ہے کہ ہوش مند بچہ کو ان کے ہاں اختیارملتا ہے ماں باپ میں سے جس کے پاس چاہے رہے،ہمارے ہاں نہیں بلکہ چھوٹا جو محتاج پرورش ہو ماں کو ملے گا سمجھ دار بچہ جو حد پرورش سے نکل چکا ہو اور تعلیم و تربیت کا حاجت مند ہو باپ کو ملے گا کیونکہ پرورش ماں اچھی کرتی ہے تربیت باپ،یہ حدیث یا منسوخ ہے اس حدیث سے جو ابھی مذکور ہوئی یہ خصوصی حکم ہے،بہرحال امام اعظم کا قول قوی ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3381 -[6]

عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ سُلَيْمَانَ مَوْلًى لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَارِسِيَّةٌ مَعَهَا ابْنٌ لَهَا وَقَدْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا فَادَّعَيَاهُ فَرَطَنَتْ لَهُ تَقُولُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي. فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اسْتهمَا رَطَنَ لَهَا بِذَلِكَ. فَجَاءَ زَوْجُهَا وَقَالَ: مَنْ يُحَاقُّنِي فِي ابْنِي؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أَقُولُ هَذَا إِلَّا أَنِّي كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي وَقَدْ نَفَعَنِي وَسَقَانِي مِنْ بِئْرِ أَبِي عِنَبَةَ وَعِنْدَ النَّسَائِيِّ: مِنْ عَذْبِ الْمَاءُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَهِمَا عَلَيْهِ» . فَقَالَ زَوْجُهَا مَنْ يُحَاقُّنِي فِي وَلَدِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ» فَأَخَذَ بيد أمه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد. وَالنَّسَائِيّ لكنه ذكر الْمسند. وَرَوَاهُ الدَّارمِيّ عَن هِلَال بن أُسَامَة

روایت ہے حضرت ہلال ابن اسامہ رضی اللہ عنھما سے وہ ابو میمونہ سلیمان سے راوی ۱؎ جو اہلِ مدینہ کے مولیٰ ہیں فرماتے ہیں کہ اس حال میں کہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک عورت فارسی ان کے پاس آئی جس کے ساتھ اس کا بچہ تھا اور اسے اس کے خاوند نے طلاق دے دی تھی ان دونوں نے بچہ کا دعویٰ کیاعورت نے فارسی میں کلام کیا ۲؎ بولی اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میرا خاوند چاہتا ہے کہ میرے بچے کو لے جائے تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس پر قرعہ ڈال لو آپ نے فارسی میں یہ فرمایا ۳؎ پھر اس کا خاوند آیابولا کہ میرے بچہ میں مجھ سے کون جھگڑ سکتا ہے۴؎ تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا الٰہی میں نہیں کہتا ۵؎ مگر اس لیے کہ میں بیٹھا ہوا تھا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ کہ آپ کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی بولی یارسول اﷲ میرا خاوند چاہتا ہے کہ میرے بچہ کو لے جائے ۶؎ حالانکہ یہ بچہ مجھے آرام پہنچاتاہے مجھے ابو عنبہ کے کنوئیں سے پانی پلاتا ہے ۷؎  اور نسائی کے ہاں کہ میٹھا پانی پلاتا ہے ۸؎  تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس پر تم دونوں قرعہ ڈال لو تو خاوند بولا میرے بچہ کے متعلق مجھ سے کون جھگڑ سکتا ہے ۹؎  تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ تیرا باپ ہےاور یہ تیری ماں ہے تو ان میں سے جس کا چاہے ہاتھ پکڑ لے اس نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑلیا ۱۰؎ (ابوداؤد،نسائی)لیکن نسائی نے مسند کا ذکر کیا اور دارمی نے ہلال ابن اسامہ سے روایت کی۔

 



Total Pages: 807

Go To