Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۴؎ یعنی جو جانور سواری کے لائق ہو اس پر سوار ہو،بیمار اور کمزور،چھوٹے بچے پر نہ سواری کرو نہ بوجھ لادو،یہ ہے اسلامی عدل و انصاف اور یہ ہے حضور کی رحمت علی الخلق،آج حکومتیں جانوروں کے متعلق قوانین بناتی ہیں ظالم مالکوں کا چالان کرتی ہیں ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

۵؎ اس جملہ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ جانور کو بالکل تھکا کر نہ چھوڑو بلکہ ابھی اس میں قوت ہو کہ اسے کھول دو کہ وہ دانہ پانی کھا پی لیں اس سے جانور کی تندرستی اور قوت خراب نہ ہوگی۔دوسرے یہ کہ جانور کو بوڑھا ناکارہ کرکے محنت سے آزاد نہ کرو بلکہ ابھی اس میں کچھ طاقت ہو کہ اس سے کام لینا موقوف کردو،گائے،بھینس وغیرہ ہے تو انہیں ذبح کرادو، گھوڑا وغیرہ ہے تو اسے کام سے آزاد کردو،کچھ کھانا جاری رکھو اس سے اﷲ تعالٰی تم پر رحم فرمائے گا اور تمہارے گھر میں برکت دے گا یہ بہت آزمایا ہوا عمل ہے۔بعض لوگ بوڑھے جانور کو نکالتے نہیں بلکہ کام سے آزاد کردیتے ہیں،کھانا پانی جاری رکھتے ہیں،یہ ہی غلاموں،نوکروں سے برتاؤ کرو بوڑھے نوکروں کو پنشن دی جاتی ہے اس کا ماخذ یہ حدیث ہوسکتی ہے۔شعر

رسم است کہ مالکان تحریر                        آزاد    کنند     بندہ      پیر

اے بار  خدا   عالم       آرا                         برسعدی پیر خود بہ بخشا

الفصل الثالث

تیسری فصل

3371 -[30]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ قَوْلُهُ تَعَالَى (وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أحسن)وَقَوْلُهُ تَعَالَى: (إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا)الْآيَةَ انْطَلَقَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ يَتِيمٌ فَعَزَلَ طَعَامه من طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ مِنْ شَرَابِهِ فَإِذَا فَضَلَ مِنْ طَعَامِ الْيَتِيمِ وَشَرَابِهِ شَيْءٌ حُبِسَ لَهُ حَتَّى يَأْكُلَهُ أَوْ يَفْسُدَ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: (وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ: إصْلَاح لَهُم خير وَإِن تخالطوهم فإخوانكم)فَخَلَطُوا طَعَامَهُمْ بِطَعَامِهِمْ وَشَرَابَهُمْ بِشَرَابِهِمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے فرماتے ہیں جب اﷲ تعالٰی کا یہ فرمان نازل ہوا کہ یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر اس طریقہ سے جو اچھا ہو ۱؎ اور یہ فرمان نازل ہوا کہ جو لوگ ظلمًا یتیموں کا مال کھاتے ہیں ۲؎  تو جن کے پاس یتیم تھے وہ چلے ان کا کھانا اپنے کھانے سے اور ان کا پانی اپنے پانی سے علیحدہ کردیاتو جب یتیم کے کھانے پینے سے کچھ بچ رہتا تو اسی کے لیے رکھ لیتےحتی کہ یا تو یتیم کھا پی لیتا  یا وہ چیز بگڑ جاتی ان لوگوں پر یہ بہت گراں گزرا ۳؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے انہوں نے یہ عرض کیا ۴؎ تب یہ آیت اللہ نے اتاری کہ لوگ آپ سے یتیموں کے متعلق پوچھتے ہیں فرما دو ان کی اصلاح بہتر ہے اگر تم انہیں اپنے ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں تب انہوں نے ان کا کھانا اپنے کھانے سے اور ان کا پانی اپنے پانی سے ملایا ۵؎(ابو داؤد،نسائی)

۱؎ قریب جانے سے منع فرمانا مبالغہ کے لیے ہے یعنی یتیم کا مال کھانا تو در کنار اس کے قریب بھی نہ جاؤ اسے ہاتھ بھی نہ لگاؤ جیسے رب تعالٰی نے حضرت آدم و حوا سے فرمایا تھا کہ اس درخت کے قریب بھی نہ جانا۔

 



Total Pages: 807

Go To