Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

3353 -[12]

وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كُنْتُ أَضْرِبُ غُلَامًا لِي فَسَمِعْتُ مِنْ خَلْفِي صَوْتًا: «اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ» فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ فَقَالَ: «أَمَا لَوْ لَمْ تَفْعَلْ لَلَفَحَتْكَ النَّارُ أَوْ لَمَسَّتْكَ النَّارُ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابن مسعود انصاری سے ۱؎ فرماتے ہیں میں اپنے غلام کو مار رہا تھا کہ میں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی ۲؎ کہ اے ابو مسعود سوچو کہ اﷲ تم پر اس سے زیادہ قادر ہے جتنے تم اس پر ہو ۳؎ میں نے پیچھے پھر کر دیکھا تو وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم تھے ۴؎ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ یہ آزاد ہے اﷲ کی راہ میں ۵؎ تب حضور نے فرمایا اگر تم یہ نہ کرتے تو تم کو آگ جلاتی یا آگ پہنچتی ۶؎(مسلم)

۱؎ مشہور صحابی ہیں، بعض نے انہیں اہل بدر سے کہا ہے مگر آپ اس معنے سے اہلِ بدر ہیں کہ بدر میں رہتے تھے غزوہ بدر میں شریک نہیں ہوئے،آپ کا نام عقبہ ابن عمرو انصاری ہے،بیعت عقبہ ثانیہ میں شریک ہوئے،آخر عمر میں کوفہ قیام رہا      ۴۱ھ؁ یا   ۴۲ھ؁ میں وفات ہوئی(اکمال)

۲؎ یعنی یہ آواز کلام سنا جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔

۳؎ کیونکہ یہ تمہارا مملوک و غلام ہے مگر تم اﷲ تعالٰی کے مملوک بھی ہو مخلوق بھی بندے بھی،جب وہ تمہارے گناہ دیکھتے ہوئے تمہاری روزی بند نہیں فرماتا ہر طرح تم پر کرم کرتا ہے معافی دیتا ہے تو تم بھی اپنے مملوک غلام کو معافی دو۔

۴؎ جو یہ فرمارہے تھے آپ کی نظر کی اکسیر اور نصیحت کی تاثیر کا وہ اثر ہوا کہ میرا سارا غصہ ختم ہوگیا جوش ٹھنڈا ہوگیا۔

۵؎ تاکہ یہ آزادی میرے اس قصور کا کفارہ ہوجائے۔

۶؎ کیونکہ تم نے اسے بے قصور مارا یا قصور سے زیادہ مارا اور اس سے معافی چاہی نہیں لہذا یہ مارنا جرم ہوا اور تھا حق العبد،اس لیے خطرہ تھا۔علماء فرماتے ہیں کہ ایسے موقعہ پر آزاد کردینا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے،اس سے معلوم ہوا کہ گناہ ہوجانے پر کوئی نیکی کردینا اچھا ہے کہ یہ نیکی کفارہ بن جاتی ہے"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ

الفصل الثانی

دوسری فصل

3354 -[13]

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ لِي مَالًا وَإِنَّ وَالِدِي يَحْتَاجُ إِلَى مَالِي قَالَ: «أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ كُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ ماجة

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آیا بولا کہ میرے پاس مال ہے اور میرے والد میرے مال کے محتاج ہیں۱؎ فرمایا تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کے ہیں ۲؎ یقینًا تمہاری اولاد تمہاری پاکیزہ کمائی سے ہے،اپنی اولاد کی کمائی کھاؤ ۳؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ)۴؎

۱؎ تو میرا مال میرا والد استعمال کرسکتا ہے یا نہیں خصوصًا حاجت کے وقت۔

۲؎  ابن ماجہ نے حضرت جابر سے اور طبرانی نے حضرت سمرہ وابن مسعود سے مرفوعًا یوں روایت فرمائی انت ومالك لابیك مطلب ایک ہی ہے یعنی تم بھی اپنے باپ کے ہو تمہارا مال بھی لہذا تمہارے باپ کو حق ہے کہ تم سے جانی خدمت بھی لیں اور مالی خدمت بھی۔

 



Total Pages: 807

Go To