Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۳؎ یہ تفسیر یا تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے خود فرمائی یا راوی نے کی غیر کی حاملہ سے صحبت کرنا حرام ہے کہ اس میں اپنا نسب مشکوک مخلوط کرنا ہے حمل اگرچہ زنا کا ہو جب بھی صحبت حرام ہے اس لیے حاملہ بالزنا سے نکاح حلال ہے مگر صحبت حرام۔

۴؎ حاملہ ہو یا نہ ہو،اس حدیث کے اطلاق سے معلوم ہوا کہ کنواری باکرہ لونڈی سے بھی بغیر استبراء صحبت درست نہیں کیونکہ سبی مطلق ارشاد ہوا۔

۵؎ کیونکہ غنیمت تقسیم سے پہلے کسی کی ملک نہیں ہوتی اس وقت اس کی بیع ایک قسم کی خیانت ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3340 -[4]

عَن مَالِكٍ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِاسْتِبْرَاءِ الْإِمَاءِ بِحَيْضَةٍ إِنْ كَانَتْ مِمَّنْ تَحِيضُ وَثَلَاثَةِ أَشْهُرٍ إِنْ كَانَت مِمَّن تحيض وَينْهى عَن سقِي مَاء الْغَيْر

روایت ہے حضرت مالک سے فرماتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم لونڈی سے استبراء کرنے کا حکم دیتے تھے ایک حیض سے اگر وہ حائضہ میں سے ہو اور تین مہینوں سے اگر ان میں سے ہو جنہیں حیض نہیں آتا۲؎ اور منع فرماتے تھے دوسرے کے پانی سے سیرابی سے ۳؎

۱؎ امام مالک تبع تابعین سے ہیں لہذا اس حدیث میں تابعی و صحابی دونوں کا ذکر نہیں یا یہ حدیث مرسل ہے یا مسند مگر اسناد کا ذکر نہیں،چونکہ امام مالک بڑےپایہ کے محدث ہیں اس لیے ان کی بغیر اسناد والی حدیث بھی قبول ہے جیسے تعلیقات بخاری مقبول ہیں۔

۲؎ اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے کہ استبراء میں حیض تو ایک ہی کافی ہے اختلاف اس میں ہے کہ استبراء کے لیے مہینہ ایک کافی ہے یا تین ضروری بعض علماء تین ماہ مانتے ہیں ان کی دلیل یہ حدیث ہے مگر جمہور علماء ایک مہینہ کافی مانتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ مہینہ حیض کے قائم مقام ہے جب حیض ایک کافی ہوا تو مہینہ بھی ایک ہی کافی ہونا چاہیے۔(نووی مرقات)

۳؎ یعنی دوسرے کے پانی دیئے ہوئے کھیت میں اپنا پانی نہ دو کہ دوسرے کی حاملہ عورت سے تم صحبت نہ کرو تاکہ بچہ دو باپوں کا مخلوط نہ ہوجائے کیونکہ حاملہ عورت سے صحبت کی جائے تو بچہ کے بال وغیرہ میں اس پانی کی آمیز ش ہوتی ہے۔

3341 -[5]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ قَالَ: إِذَا وُهِبَتْ الْوَلِيدَةُ الَّتِي تُوطَأُ أَوْ بِيعَتْ أَوْ أُعْتِقَتْ فَلْتَسْتَبْرِئْ رَحِمَهَا بِحَيْضَةٍ وَلَا تُسْتَبْرَئُ الْعَذْرَاءُ. رَوَاهُمَا رزين

روایت ہے حضرت ابن عمر سے انہوں نے فرمایا کہ جب وہ لونڈی جس سے وطی کی جاتی تھی ہبہ کی جائے یا فروخت کی جائے یا آزاد کی جائے تو اس کا استبراء رحم ایک حیض سے کرلیا جائے اور کنواری کا استبراء نہ کیا جائے ۱؎ (زرین)

۱؎ یہ حضرت ابن عمر کی رائے شریف ہے کہ کنواری لونڈی جو پہلے کسی کے نکاح میں نہ تھی یا جس کا خاوند بہت چھوٹا بچہ تھا جو صحبت نہیں کرسکتا تھا یا ابھی اس کی رخصتی نہ ہوئی تھی کہ گرفتار ہو کر مسلمانوں کے قبضہ میں آگئی اس کے استبراء کی ضرورت نہیں کیونکہ استبراء تو یہ معلوم کرنے کو ہوتا ہے کہ لونڈی حاملہ ہے یا نہیں ان صورتوں میں حمل کا احتمال ہی نہیں تو استبراء کی کیا ضرورت ہے مگر تمام علماء فرماتے ہیں کہ استبراء کے وجوب کا سبب ملکیت حاصل کرنا ہے لہذا ایسی لونڈی سے استبراء کیا جائے، دیکھو اگر عورت کا خاوند خلوت سے پہلے فوت ہوجائے تو بھی عدت واجب ہے حالانکہ وہاں حمل کا احتمال ہی نہیں،گزشتہ احادیث میں



Total Pages: 807

Go To