Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

الفصل الثانی

دوسری فصل

3338 -[2]

عَن أبي سعيدٍ الخدريِّ رَفْعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي سَبَايَا أَوْطَاسٍ: «لَا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ وَلَا غَيْرُ ذَاتِ حَمْلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم تک مرفوع کرتے ہیں کہ حضور نے اوطاس کی لونڈیوں کے متعلق فرمایا ۱؎ کہ کسی حاملہ سے وطی نہ کی جائے حتی کہ حمل جن دے اور نہ غیر حاملہ سے صحبت کی جائے حتی کہ اسے حیض آجائے ۲؎ (احمد،ابوداؤد،دارمی)

۱؎ جو غزوۂ اوطاس میں گرفتار ہو کر آئی تھیں او طاس مکہ معظمہ سے تین منزل فاصلہ پر ایک جگہ ہے یہ غزوہ فتح مکہ کے فورًا بعد ہوا۔

۲؎  اس سے معلوم ہوا کہ جو لونڈی اپنی ملک میں آئے اگر حاملہ ہو تو حمل جننے تک اس کے پاس نہ جائے اگر غیر حاملہ ہو تو ایک حیض کا انتظار کرے اگر بحالت حیض مالک ہوا تو اس حیض کا اعتبار نہیں اس کے علاوہ ایک اور حیض کا انتظار کرے،اگر اسے کم عمری یا زیادتی کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو تو جمہور علماء ے نزدیک ایک ماہ کا انتظار کرے۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر کافر زوجین میں سے ایک ہمارے ہاں گرفتار ہو کر آجائے تو نکاح ٹوٹ جائے گا لیکن اگر دونوں گرفتار ہو کر آجائیں تو ان کا نکاح باقی رہے گا اور ہر نئی ملکیت میں استبراء واجب ہوتا ہے مرد سے خریدے یا عورت سے لہذا مکاتبہ جب اپنے کو اداء کتابت سے عاجز کردے یا فروخت کردہ لونڈی جب عیب یا فسخ بیع کی وجہ سے واپس ہوجائے تو بھی اسبتراء کرے۔(مرقات)

3339 -[3] وَعَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم  يَوْم حُنَيْنٍ: «لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يسْقِي مَاء زَرْعَ غَيْرِهِ» يَعْنِي إِتْيَانَ الْحُبَالَى «وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَقَعَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ السَّبْيِ حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَبِيعَ مَغْنَمًا حَتَى يُقَسَّمَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيّ إِلَى قَوْله «زرع غَيره»

روایت ہے حضرت رویفع ابن ثابت انصاری سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے حنین کے دن فرمایا ۲؎ کہ کسی اس شخص کو جو اﷲ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو یہ حلال نہیں کہ اپنے پانی سے دوسرے کا کھیت سینچے یعنی حاملہ سے صحبت کرنا۳؎ اور جو شخص اﷲ تعالٰی اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو اسے یہ حلال نہیں کہ کسی قیدی عورت سے بغیر استبراء کئے صحبت کرے ۴؎ اور جو شخص اﷲ تعالٰی اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو، اسے یہ حلال نہیں کہ تقسیم سے پہلے غنیمت فروخت کرے ۵؎(ابو داؤد)ترمذی نے غیرہ تک روایت کی۔

۱؎ صحابی ہیں، انصاری ہیں، مصریوں میں شمار کیے جاتے ہیں، امیر معاویہ نے انہیں طرابلس الغرب کا حاکم بنایا  ۴۰ھ؁ میں، انہوں نے ۴۷ھ؁ میں افریقہ پر جہاد کیا    ۵۶ھ؁ میں شام میں وفات پائی،حنین مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ایک جنگل کا نام ہے۔ فقیر نے اس کی زیارت کی ہے فتح مکہ کے بعد یہ غزوہ واقع ہوا۔

۲؎  حنین مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ایک جنگل کا نام ہے،فقیر نے اس کی زیارت کی ہے فتح مکہ کے بعد یہ  غزوہ واقع ہوا۔

 



Total Pages: 807

Go To