Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب الاستبراء

استبراء کا بیان ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  استبراء کے معنے براءت وعلیحدگی معلوم کرنا،شریعت میں استبراء کے معنے یہ ہیں کہ جب کسی کی لونڈی خرید،ہبہ،میراث وصیت وغیرہ کے ذریعہ اپنے قبضہ میں آئے تو اس سے صحبت یا بوس و کنار وغیرہ نہ کرے حتی کہ معلوم کرے کہ حاملہ نہیں ہے ایک حیض اور اگر حائضہ نہ ہو تو ایک ماہ تک انتظار کرکے پھر صحبت کرے اور اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہونے سے پہلے اس کے قریب نہ جائے یہ ہے حقیقت استبراء۔ خیال رہے کہ کنواری لونڈی سے بھی استبراء واجب ہے اگرچہ اس کا پردہ بکارت قائم ہو کیونکہ آگے حدیث میں مطلقًا استبراء کا حکم آرہا ہے جس سے ہر لونڈی مقبوضہ سے اسبتراء واجب ہونا معلوم ہورہا ہے۔

3337 -[1]

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ مُجِحٍّ فَسَأَلَ عَنْهَا فَقَالُوا: أَمَةٌ لِفُلَانٍ قَالَ: «أَيُلِمُّ بِهَا؟» قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنًا يَدْخُلُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ كَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ؟ أَمْ كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يحلُّ لَهُ؟» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ایک حاملہ عورت پر گزرے ۱؎ تو اس کے متعلق دریافت کیا ۲؎ لوگوں نے کہا کہ فلاں کی لونڈی ہے ۳؎ فرمایا کیا وہ اس سے صحبت کرتا ہے ؟ لوگ بولے ہاں ۴؎ فرمایا میں نے ارادہ کیا کہ اس پر ایسی لعنت کروں جو اس کے ساتھ قبر میں جائے ۵؎  اس سے خدمت کیسے لے سکتا ہے حالانکہ وہ اسے حلال نہیں بلکہ اسے وارث کیسے کرسکتا ہے اور وہ اسے حلال نہیں ۶؎ (مسلم)

۱؎ مجح میم کے پیش جیم کے کسرہ ح کے شد سے،حاملہ عورت قریب الولادۃ۔(مرقات)

۲؎ کہ یہ آزاد عورت ہے یا لونڈی ہے اگر لونڈی ہے تو فی الحال کس کی ملک میں آئی ہے یا پہلے سے ہی اس کی مملوکہ تھی۔

۳؎ جو قید ہو کر آئی اور چند روز سے اس کی مملوکہ بنی،جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔

۴؎ غالبًا اس شخص نے ان لوگوں پر اپنی صحبت کا اظہار کردیا ہوگا کہ میں اس سے صحبت کرتا ہوں یا لونڈی نے خبر دی ہوگی۔

۵؎ یعنی ایسی سخت لعنت کروں جس کا اثر اس پر بعد موت بھی رہے کیونکہ اس نے استبراء کے بغیر صحبت شروع کردی۔ معلوم ہوا کہ استبراء واجب ہے اور ترک واجب پر لعنت ہوسکتی ہے مگر حضور نے اس پر لعنت کی نہیں کہ وہ اس مسئلہ سے بے خبر تھا۔

۶؎ ام منقطعہ ہے بمعنی بلکہ اور ھو کا مرجع یہ عمل ہے کہ لونڈی۔مطلب یہ ہے کہ یہ شخص دو جرم کرتا ہے ایک تو استبراء سے پہلے اس لونڈی سے صحبت کرنا، دوسرے غیر کے بچہ کو اپنا وارث بنانا یا اپنے بچہ کو اپنا غلام بنانا اس طرح کہ اگر اب سے چھ ماہ بعد لونڈی کے بچہ پیدا ہو تو پتہ نہ لگے گا کہ یہ بچہ اس کے پہلے مالک یا خاوند کا ہے یا اس کا اپنا اب اگر یہ اس بچہ کو اپنا بیٹا سمجھے تو اسے اپنی میراث دے گا اور ممکن ہے کہ اس کا نہ ہو پہلے مالک کا ہو تو غیر کے بچہ کو اپنا وارث بنادیا یہ حرام ہے اور اگر غیر کا بچہ سمجھ کر اسے اپنا غلام بنائے تو احتمال ہوگا کہ اس کا اپنا بیٹا ہو اور اپنے بیٹے کو اپنا غلام بنانا حرام ہے بہرحال اس میں خلط نسب ہے۔

 



Total Pages: 807

Go To