Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۷؎ یہ حدیث احمد نے بھی نقل کی مگر یہ اسناد ضعیف۔ خیال رہے کہ خوشبو دار تیل لگانا معتدہ کے لیے بالاجماع ممنوع ہے مگر بغیر خوشبو کا تیل امام اعظم و شافعی کے ہاں ممنوع ہے امام احمد و مالک کے ہاں جائز وہ دونوں امام فرماتے ہیں کہ اس تیل سے زینت حاصل ہوجاتی ہے ضرورۃً جائز ہے۔مرقات)

3334 -[11]

وَعَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «المُتوَفّى عَنْهَا زوجُها لَا تَلبسُ المُعَصفَرَ مِنَ الثِّيَابِ وَلَا الْمُمَشَّقَةَ وَلَا الْحُلِيَّ وَلَا تَخْتَضِبُ وَلَا تَكْتَحِلُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

روایت ہے ان ہی سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا جس کا خاوند فوت ہوجائے،وہ نہ تو زعفرانی کپڑے پہنے اور نہ سرخ رنگ کے ۱؎ اور نہ زیور پہنے اور نہ خضاب لگائے نہ سرمہ لگائے ۲؎ (ابوداؤد،نسائی)

۱؎ ممشقہ مشق سے بنا مشق سرخ رنگ کو بھی کہتے ہیں اورگیرد کو بھی ۔مطلب یہ ہے کہ عدت وفات والی عورت سرخ کپڑے نہ پہنے کہ یہ زینت ہے۔

۲؎ سیاہ سرمہ لگانا اسے منع ہے جس سے آنکھ میں زینت ہوتی ہے علماء فرماتے ہیں کہ خارش وغیرہ عذر کی وجہ سے ریشمی کپڑا پہن سکتی ہے امام مالک کے ہاں ادنی ریشمی سیاہ کپڑا پہننا بہرحال جائز ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3335 -[12]

عَن سُليمانَ بنِ يَسارٍ: أَنَّ الْأَحْوَصَ هَلَكَ بِالشَّامِ حِينَ دَخَلَتِ امْرَأَتُهُ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ وَقَدْ كَانَ طَلَّقَهَا فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ زِيدٌ: إِنَّهَا إِذَا دَخَلَتْ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ وَبَرِئَ مِنْهَا لَا يرِثُها وَلَا ترِثُه. رَوَاهُ مَالك

روایت ہے حضرت سلیمان ابن یسار سے ۱؎ کہ حضرت احوص شام میں فوت ہوگئے ۲؎ جب کہ ان کی بیوی تیسرے حیض میں داخل ہوئیں وہ انہیں طلاق دے چکے تھے ۳؎ تو حضرت معاویہ ابن ابوسفیان نے زید ابن ثابت کو خط لکھا ان سے اس کے متعلق دریافت کرتے تھے ۴؎ تو حضرت زید نے انہیں لکھا کہ وہ جب تیسرے حیض میں داخل ہوگئیں تو اپنے خاوند سے علیحدہ ہوچکیں اور وہ ان سے علیحدہ ہوگئے ۵؎ نہ یہ ان کی وارث ہوں نہ وہ ان کے ۶؎(مالک)

۱؎ اپ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ہیں عظیم الشان تابعی ہیں مدینہ منورہ کے سات مشہور فقہاء میں سے ہیں۔

۲؎ احوص ابن جواب اجنبی اہل کوفہ سے ہیں تابعی ہیں آپ کا انتقال   ۲۲۱ھ؁ میں شام میں ہوا۔(مرقات)

۳؎ صورت مسئلہ یہ بنی کہ احوص ابن جواب نے اپنی بیوی کو طلاق دی وہ عدت طلاق حیض سے گزاررہی تھیں تیسرا حیض تھا کہ احوص کی وفات واقع ہوگئی ان کی بیوی پر دو عدتیں جمع ہوگئیں ایک طلاق کی عدت جس کا تیسرا حیض گزررہا تھا۔دوسری وفات کی عدت چار ماہ دس دن۔

۴؎ یہ مقدمہ حضرت معاویہ کے ہاں پیش ہوا کہ احوص کی بیوی عدت کس طرح گزاریں صرف عدت طلاق گزاریں یا عدت وفات بھی اور یہ کہ ان بیوی صاحبہ کو احوص کی میراث ملے گی یا نہیں کیونکہ عدت کے دوران احوص کا انتقال ہوگیا ہے عدت حکمی نکاح



Total Pages: 807

Go To