Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب العدۃ

عدت کا بیان  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ لغت میں عدت عین کے کسرہ سے بمعنی شمار و گنتی ہے، عین کے پیش سے بمعنی تیاری۔شریعت میں اس انتظار کرنے کو عدت کہتے ہیں جو نکاح یا شبہ نکاح کے زائل ہونے کے بعد کیا جائے کہ اس زمانہ میں دوسرا نکاح کرنا ممنوع ہو۔عدت عورت پر واجب ہے نہ کہ مرد پر ہاں مقام دو ہیں جہاں مرد کو بھی انتظار کرنا پڑتا ہے جیسے مطلقہ بیوی کی بہن بھانجی خالہ وغیرہ سے اس وقت تک نکاح نہیں کرسکتا جب تک وہ عدت میں ہے۔خیال رہے کہ عورت کی عدت تین قسم کی ہے: وفات کی عدت چار ماہ دس دن ہے، طلاق وغیرہ کی عدت حاملہ کے لیے حمل جن دینا غیر حاملہ بالغہ کے لیے تین حیض غیر حاملہ،نابالغہ اور بہت بوڑھی کے لیے تین ماہ۔ طلاق کے علاوہ فسخ نکاح میں بھی عدت واجب ہے خواہ فسخ خاوند کی طرف سے ہو یا عورت کی طرف سے عدت بہرحال ہوگی۔(شامی،مرقات)

3324 -[1]

عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيْلُهُ الشَّعِيرَ فَسَخِطَتْهُ فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ» فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ ثُمَّ قَالَ: «تِلْكِ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي» . قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي فَقَالَ: «أَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ» فَكَرِهْتُهُ ثُمَّ قَالَ: «انْكِحِي أُسَامَةَ» فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهَا: «فَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَاءِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَا نَفَقَةَ لَكِ إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلا»

روایت ہے حضرت ابو سلمہ سے وہ حضرت فاطمہ بنت قیس ۱؎ سے راوی کہ ابو عمرو ابن حفص نے انہیں طلاق بات دے دی جبکہ وہ غائب تھے ۲؎ تو ان کے وکیل نے حضرت فاطمہ کو کچھ جو بھیجے وہ ان پر ناراض ہوئیں تو وکیل نے کہا اﷲ کی قسم تمہارا ہم پر کچھ حق نہیں ۳؎ تو وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا حضور نے فرمایا تمہارے لیے خرچہ نہیں ۴؎ پھر انہیں حکم دیا ام شریک کے گھر عدت گزاریں ۵؎ پھر فرمایا کہ وہ ایسی بی بی ہیں جن کے پاس ہمارے صحابہ گھیرے رہتے ہیں ۶؎ تم ابن ام مکتوم کے پاس عدت گزارو وہ نابینا آدمی ہیں ۷؎ تم اپنے یہ کپڑے اتار دو ۸؎ پھر جب تم فارغ ہوجاؤ تو مجھے اطلاع دینا فرماتی ہیں کہ جب میں فارغ ہوگئی تو میں نے حضور سے عرض کیا کہ معاویہ ابن ابوسفیان اور ابوجہم نے پیغام دیا ۹؎ تو فرمایا کہ ابوجہم ۱۰؎ اپنی لاٹھی اپنے کندھے سے اتارتے ہی نہیں ۱۱؎ رہے معاویہ وہ بہت تنگدست ہیں جن کے پاس مال نہیں ۱۲؎ تم اسامہ ابن زید سے نکاح کرلو میں نے انہیں ناپسند کیا ۱۳؎ حضور نے پھر فرمایا کہ اسامہ سے نکاح کرلو میں نے ان سے نکاح کرلیا تو اﷲ نے اس نکاح میں بہت خیر دی کہ مجھ پر رشک کیا گیا ۱۴؎ اور ان ہی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ ابو جہم بیویوں کو بہت مارنے والے ہیں(مسلم)اور ایک روایت میں ہے کہ ان کے خاوند نے انہیں تین طلاقیں دے دیں ۱۵؎ تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں حضور نے فرمایا تمہارے لیے خرچہ نہیں مگر اس صورت میں کہ حاملہ ہوتیں ۱۶؎

 



Total Pages: 807

Go To