Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باپ بیٹے ہیں تو کفار پر اس کا قول حجت ہوگیا اسی لیے اب کفار کو ان کے نسب میں طعنہ کرنے کا موقعہ نہ رہا اس لیے سرکار خوش ہوئے لہذا اس سے لازم یہ نہیں آتا کہ شریعت میں قیافہ سے نسب ثابت ہوجاتا ہے یہ ہی امام اعظم کا فرمان ہے کہ قیافہ سے نسب ثابت نہیں ہوتا،خیال رہے کہ حضرت زید کی ماں حبشی سیاہ فام عورت تھیں ان نام برکتہ کنہنہ ام ایمن تھا شریعت میں نجومیوں کے قول ،رویت ہلال، قیافہ کے قول سے نسب ثابت نہیں ہوتے۔اس جگہ مرقات نے قیافہ پر بہت مفصل گفتگو فرمائی۔

3314 -[11] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَأَبِي بَكْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حرَام»

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص اور حضرت ابوبکرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو اپنے کو نسبت کرے اپنے غیر باپ کی طرف حالانکہ جانتا ہو تو اس پر جنت حرام ہے ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی جو دیدہ ودانستہ اپنے کو اپنے باپ کے سوا کسی اور شخص کا بیٹا بتائے یا اس کی میراث لینے کے لیے یا اپنی عزت و آبرو بڑھانے کے لیے یا کسی اور مصلحت سے تو وہ اولًا یا ابرار کے ساتھ جنت میں نہ جاسکے گا یا جو شخص یہ کام حلال جان کر کرے وہ جنت سے بالکل محروم ہے۔ اس حدیث سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو سید نہیں مگر اپنے کو سید کہتے کہلواتے ہیں یہ بیماری بہت لوگوں میں ہے یہ حدیث مختلف اسنادوں سے مختلف الفاظ سے آئی ہے چنانچہ ابوداؤد ابن ماجہ ،احمد نے ان ہی دونوں صحابیوں سے اور ابوداؤد نے حضرت انس سے روایت کی کہ جو شخص اپنے غیر باپ کو باپ بتائے یا اپنے غیر مولے کی طرف اپنے کو منسوب کرے اس پر تا قیامت اﷲ کی لعنت ہے پے درپے(مرقات)

3315 -[12] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ فقد كفر»وَذُكِرَ حَدِيثُ عَائِشَةَ «مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ من الله» فِي «بَاب صَلَاة الخسوف»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اپنے باپ دادوں سے منہ پھیرو ۱؎ جو اپنے باپ سے اعتراض کرے اس نے کفران کیا ۲؎ (مسلم،بخاری)اور حضرت عائشہ کی حدیث خدا سے بڑھ کر کوئی غیرت والا نماز خسوف کے باب میں ذکر ہوا ۳؎

۱؎ اگر وہ غریب یا غیر عزت والے ہوں تو اپنے کو ان کی اولاد کہنے سے شرم و غیرت نہ کرو۔

 ۲؎ جو شخص اپنا نسب بدلنے کو حلال جانے وہ کافر ہے اور اجماع امت کا مخالف ہے اور جو حرام جان کر یہ حرکت کرے وہ کافر کا سا کام کرتا ہے یا اپنے خاندان کا ناشکرا ہے یارب تعالٰی کاناشکرا بہرحال یہ فعل یا کفر ہے یا حرام۔(مرقات)

۳؎ یعنی وہ حدیث مصابیح میں یہاں بھی تھی میں نے تکرار سے بچنے کے لیے یہاں سے حذف کردی(مرقات)

الفصل الثانی

دوسری فصل

3316 -[13]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ مَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ وَلَنْ يُدْخِلَهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ احْتَجَبَ اللَّهُ مِنْهُ وفضَحَهُ على رؤوسِ الْخَلَائِقِ فِي الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ والدارمي

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا جب لعان کی آیت اتری جو عورت کسی قوم پر اسے داخل کرے جو ان میں سے نہیں ۱؎ تو وہ اﷲ کی رحمت میں سے کسی حصہ میں نہیں ۲؎ اور اسے اﷲ اپنی جنت میں ہر گز داخل نہ کرے گا۳؎ اور جو شخص اپنے بچہ کا انکار کرے وہ اسے دیکھتا ہو۴؎ تو اﷲ اس سے حجاب فرمائے گا۵؎ اور اس کو مخلوق کے سامنے اگلے پچھلوں میں رسوا کرے گا۶؎(ابوداؤد،نسائی،دارمی)

 



Total Pages: 807

Go To