Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب اللعان

لعان کا بیان   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  لعان باب مفاعلہ کا مصدر ہے اس کا مادہ لعن ہے بمعنی لعنت یعنی رحمت الٰہی سے دور ہوجانے کی بددعا۔ لعان کے معنے ہیں ایک دوسرے پر لعنت کرنا۔ شریعت میں لعان یہ ہے کہ کوئی خاوند اپنی بیوی کو ایسی تہمت لگائے کہ اگر اجنبی عورت کو لگاتا تو حد قذف واجب ہوجاتی اس پر حاکم مجمع کے سامنے ان دونوں خاوند و بیوی کو کھڑا کرکے چار چار قسمیں ایک ایک لعنت یا غضب کی بددعا کرائے پھر ان دونوں کو ہمیشہ کے لیے جدا کردے کہ پھر یہ عور ت اس مرد کے نکاح میں آ بھی نہ سکے مگر لعان توڑنے پر کہ مرد کہے میں نے جھوٹی تہمت لگائی تھی اس پر اسے تہمت کی سزا اسی۸۰ کوڑے لگائے جائیں پھر نکاح میں آئے ،ہمارے امام صاحب کے ہاں گوائیاں ہیں جن کی تاکید قسم سے کی گئی ہے۔امام شافعی کے ہاں لعان قسمیں ہیں جن کی تاکید گواہیوں سے کی گئی ہے لہذا امام صاحب کے ہاں لعان وہ ہی کرسکتا ہے کہ جس کی گواہی قبول ہوسکتی ہے جو گواہی کا اہل نہیں وہ لعان نہیں کرسکتا،اس کی تحقیق کتب فقہ میں ملاحظہ کیجئے۔ خیال رہے کہ کسی گنہگار مسلمان کا نام لے کر اس پر لعنت کرنا جائز نہیں خواہ کیسا ہی گنہگار ہو سوائے لعان کے،لہذا یہ نہیں کہہ سکتے کہ یزید یا حجا ج یا فلاں زانی قاتل پر لعنت ہاں یہ کہہ سکتے ہیں حضرت حسین کے قاتل یا قتل سے راضی ہونے والے پر لعنت ہے کہ یہ لعنت بالوصف ہے دیکھو شامی باب اللعان۔

3304 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ قَالَ: إِن عُوَيْمِر الْعَجْلَانِيَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وجدَ معَ امرأتِهِ رجُلاً أيقْتُلُه فيَقْتُلُونه؟ أمْ كَيفَ أفعل؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قدْ أُنْزِلُ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا» قَالَ سَهْلٌ: فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رسولَ اللَّهِ إِن أَمْسكْتُها فطلقتها ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْظُرُوا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَلَا أَحسب عُوَيْمِر إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلَا أَحْسِبُ عُوَيْمِرًا إِلَّا قَدْ كَذَبَ عَلَيْهَا فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَصْدِيقِ عُوَيْمِرٍ فَكَانَ بَعْدُ يُنْسَبُ إِلَى أمه

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد ساعدی سے فرماتے ہیں کہ عویمر عجلانی نے عرض کیا ۱؎ یارسول اﷲ فرمایئے تو ایک شخص اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پائے ۲؎ کیا وہ اسے قتل کردے تو مسلمان اسے قتل کردیں گے ۳؎ کیا کرے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تیرے اور تیری بیوی کے متعلق آیت نازل کر دی گئی ۴؎ تم جاؤ اسے لے آؤ ۵؎ سہل فرماتے ہیں کہ ان دونوں نے مسجد میں لعان لیا ۶؎ میں بھی لوگوں کے ساتھ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا جب وہ زوجین فارغ ہوچکے تو عویمر بولے کہ میں نے اس پر جھوٹ ہی لگایا یارسول اﷲ ۷؎ اگر اس کو روک رکھوں چنانچہ اسے تین طلاقیں دے دیں ۸؎ پھر رسول اﷲ نے فرمایا لوگو خیال رکھنا اگر وہ عورت جنے بچہ سیاہ رنگ بڑی آنکھ والا بڑے سرین والا بڑی پنڈلیانوالہ تو میں عویمر کو اس عورت پر سچا ہی گمان کرتا ہوں ۹؎ اور اگر وہ عورت بچہ جنے سرخ رنگ والا گویا وہ بامنی ہے ۱۰؎ تو میں سمجھتا ہوں کہ عویمر نے اس پر جھوٹ ہی بولا ۱۱؎ پھر اس عورت نے بچہ اس صفت پر جنا جس پر رسول اﷲ نے عویمر کو سچا فرمایا تھا پھر وہ بچہ بعد میں اپنی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۱۲؎(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 807

Go To