Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب

باب  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  اس باب کا منشا یہ ہے کہ ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر ہمارے امام اعظم کے ہاں مستحب ہے امام شافعی کے ہاں واجب، قتل خطا کے کفارہ میں بالاتفاق مؤمن غلام آزاد کرنا واجب ہے کیونکہ اس کے لیے قرآن میں ایمان کی قید موجود ہے "تَحْرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ

3303 -[1]

عَن مُعَاوِيَة بنِ الحكمِ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ جَارِيَةً كَانَتْ لِي تَرْعَى غَنَمًا لِي فَجِئْتُهَا وَقَدْ فَقَدَتْ شَاةً مِنَ الْغَنَمِ فَسَأَلْتُهَا عَنْهَا فَقَالَتْ: أَكَلَهَا الذِّئْبُ فَأَسِفْتُ عَلَيْهَا وَكُنْتُ مَنْ بَنِي آدَمَ فَلَطَمْتُ وَجْهَهَا وَعَلَيَّ رَقَبَةٌ أَفَأُعْتِقُهَا؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ اللَّهُ؟» فَقَالَتْ: فِي السَّمَاءِ فَقَالَ: «مَنْ أَنَا؟» فَقَالَتْ: أَنْتَ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْتِقْهَا» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ قَالَ:كَانَتْ لِي جَارِيَةٌ تَرْعَى غَنَمًا لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِنَا وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ لَكِنْ صَكَكْتُهَا صَكَّةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أفَلا أُعتِقُها؟ قَالَ: «ائتِني بهَا؟» فأتيتُه بِهَا فَقَالَ لَهَا: «أَيْنَ اللَّهُ؟» قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ قَالَ: «مَنْ أَنَا؟» قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ الله قَالَ: «أعتِقْها فإنَّها مؤْمنةٌ»

روایت ہے حضرت معاویہ ابن حکم سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم میری لونڈی میری بکریاں چراتی تھی ۲؎ میں اس کے پاس گیا تو ایک بکری گم پائی میں نے اسے بکری کے متعلق پوچھا تو وہ بولی کہ اسے بھیڑیا کھا گیا ۳؎ میں اس پر بہت غصے ہوا میں آدمی ہوں میں نے اس کے منہ پر تھپڑ مار دیا اور مجھ پر ایک غلام آزاد کرنا ہے ۴؎ کیا اسے آزاد کردوں تو اس سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اﷲ کہاں ہے وہ بولی آسمان میں ۵؎ پھر فرمایا میں کون ہوں،بولی آپ اﷲ کے رسول ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسے آزاد کردو ۶؎(مالک)اور مسلم کی روایت میں ہے فرماتے ہیں میری ایک لونڈی تھی جو میری بکریاں احد اور جوانیہ کی طرف چراتی تھی ۷؎  ایک دن میں اچانک وہاں گیا تو بھیڑیا ہماری بکریوں میں سے ایک بکری لے گیا تھا۸؎  اور میں اولاد آدم سے ایک شخص ہوں جیسے سب غمگین ہوتے ہیں میں بھی غمگین ہوتا ہوں لیکن میں نے اسے صرف ایک تھپڑ مار دیا ۹؎ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اسے مجھ پر بڑا جرم قرار دیا۱۰؎  میں نے عرض کیا یارسول اﷲ کیا میں اسے آزاد نہ کردوں ۱۱؎ فرمایا اسے میرے پاس لاؤ تو میں اسے لایا تو آپ نے فرمایا اﷲ کہاں ہے وہ بولی آسمان میں فرمایا میں کون ہوں بولی آپ رسول اﷲہیں فرمایا اسے آزاد کردو یہ مؤمنہ ہے ۱۲؎

۱؎  آپ سلمی ہیں صحابی ہیں مدینہ منورہ میں رہنے سہنے لگے تھے،   ۱۱۷ھ؁ میں وصال ہوا۔(کمال و مرقات)

 



Total Pages: 807

Go To