Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۲؎ یعنی یہ واقعہ کی نصف رمضان کو ہی صحبت کر بیٹھا یا یہ کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ میں ساٹھ روزے اور دو ماہ صحبت سے خالی نہیں رکھ سکتا اسی لیے ہوا کہ مجھے بمقابلہ دوسرے مردوں کے شہوت اور طاقت جماع بہت زیادہ تھی بغیر بیوی رہ نہ سکتا تھا۔

۳؎ یہ حدیث گزشتہ اجمال کی تفصیل ہے وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے فی فقیر ایک صاع چھوارے دینا لازم ہے یہ ہی فقہاء فرماتے ہیں پھر پندرہ سولہ صاع دلوادینا ان کی خصوصیت ہے،قانون اور ہے کرم خسروانہ کچھ اور۔

3301 -[7]

وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُظَاهِرِ يُوَاقِعُ قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ قَالَ: «كَفَّارَة وَاحِدَة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت سلیمان ابن یسار سے وہ سلمہ ابن صخر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی اس ظہار کرنے والے کے متعلق جو کفارہ دینے سے پہلے صحبت کرے فرمایا ایک ہی کفارہ ہے ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ)

۱؎ یعنی واجب تو یہ ہے کہ مظاہر پہلے کفارہ دے پھر اس عورت سے صحبت کرے لیکن اگر کوئی پہلے ہی صحبت کر بیٹھے تو کفارہ ایک ہی ہوگا دو لازم نہ ہوں گے اور اس گناہ کی رب تعالٰی سے معافی مانگے یہ ہی احناف کا مذہب ہے مگر حضرت عمر و ابن عاص ،قبیصہ، سعید ابن جبیر،زہری،قتادہ،خواجہ حسن بصری،امام نخعی فرماتے ہیں کہ اس پر دو کفارہ واجب ہوں گے،حدیث ان بزرگوں کے خلاف ہے جو شخص اپنی چار بیویوں سے ظہار کرے کہ کہہ دے تم سب مجھ پر میری ماں کی طرح ہو تو چار کفارہ واجب ہوں گے کہ یہ چار ظہار ہوئے مگر امام مالک و احمد کے ہاں ایک ہی کفارہ واجب ہے کہ ظہار کرنے والا مرد ایک ہی ہے ظہار اور کفارہ ظہار کے تفصیلی مسائل کتب فقہ میں ملاحظہ فرمایئے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3302 -[8]

عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ فَغَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ يَكَفِّرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ بَيَاضَ حِجْلَيْهَا فِي الْقَمَرِ فَلَمْ أَمْلِكْ نَفْسِي أَنْ وَقَعَتُ عَلَيْهَا فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ أَنْ لَا يَقْرَبَهَا حَتَّى يُكَفِّرَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ. وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحْوَهُ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ نَحْوَهُ مُسْنَدًا وَمُرْسَلًا وَقَالَ النَّسَائِيُّ: المرسل أوْلى بالصَّوابِ من المسْندِ

ر وایت ہے حضرت عکرمہ سے ۱؎ وہ ابن عباس سے راوی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا پھر کفارہ دینے سے پہلے اس سے صحبت کرلی ۲؎ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے یہ حضور سے عرض کیا فرمایا تجھے اس پر کس چیز نے انگیخت کی ۳؎ عرض کیا یارسول اﷲ میں نے چاندی میں اس کے جھانجنوں کی سفیدی دیکھی تو اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکا۴؎ کہ اس سے صحبت کر بیٹھا تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ہنسے ۵؎ اور اسے حکم دیا کہ اپنی بیوی کے قریب نہ جائے حتی کہ کفارہ دے دے ۶؎ ابن ماجہ اور ترمذی نے اس کی مثل اور فرمایا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۷؎ اور ابو داؤد نسائی نے اس کی مثل روایت کی اسنادًا بھی اور ارسالًا بھی نسائی نے فرمایا کہ بمقابلہ مسند کے مرسل زیادہ قریب صواب ہے ۸؎

 



Total Pages: 807

Go To