Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب المطلقۃ ثلاثا

تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ یعنی اس باب میں تین طلاق والی عورت کا ذکر ہے کہ وہ بغیر حلالہ پہلے خاوند کو حلال نہیں اور حلالہ میں دوسرے خاوند سے نکاح بھی ضروری ہے اور صحبت بھی لازم۔بہتر تھا کہ صاحب مشکوۃ ترجمہ باب میں ایلاءوظہار کا ذکر بھی فرماتے کیونکہ اس باب میں اس کے متعلق احادیث بھی آرہی ہیں۔

3295 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي فَتَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَمَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ فَقَالَ: «أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟» قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ: «لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ»

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رفاعہ قرظی ۱؎ کی بیوی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں عرض کیا کہ میں رفاعہ کے پاس تھی ا ور انہوں نے مجھے طلاق دی تو طلاق منقطع کردی ۲؎ پھر ان کے بعد میں نے عبدالرحمان ابن زبیر سے نکاح کرلیا ان کے پاس نہیں ہے مگر کپڑے کے پلو(گوشہ)کے تو فرمایا ۳؎ کہ کیا تم رفاعہ کی طرف لوٹنا چاہتی ہو بولیں ہاں ۴؎ فرمایا نہیں تاآنکہ تم ان کی لذت چکھ لو اور وہ تمہاری لذت چکھ لیں ۵؎ (مسلم،بخاری)۶؎

۱؎ آپ کا نام رفاعہ ابن سموال ہے،قرظی ہیں،یعنی یہود کے قبیلہ بنی قریظہ سے ہیں،بی بی صفیہ زوجہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ماموں ہیں۔(اکمال)

۲؎ اس طرح کہ مجھے تین طلاقیں دے دیں جس کی وجہ سے نکاح بالکل ہی ختم ہوگیا۔

۳؎ یعنی عبد الرحمن کے اعضاء تناسل تو درست ہیں مگر ضعف کی وجہ سے وہ قابل صحبت نہیں کہ وہ نامرد ہیں۔خیال رہے کہ خصی وہ جس کے خصیہ نہ ہوں، مجبوب جس کا آلہ تناسل کٹا ہوا ہو اور عنین وہ جس کے یہ تینوں اعضاء ہوں مگر آلہ میں سختی نہ ہو جس سے وہ صحبت کے قابل نہ ہو،یہاں تیری صورت تھی جسے اس بی بی نے اس طرح بیان کیا۔اس سے معلوم ہوا کہ مسئلہ پوچھنے یا داد خواہی کرنے کے لیے عالم یا حاکم کے سامنے صاف صاف بات کہی جاسکتی ہے نہ اسے بے حیائی کہا جاوے گا نہ غیبت اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بیان پر ملامت نہ فرمائی۔

۴؎ یہ بی بی سمجھی کہ حلالہ کے لیے صرف دوسرے مرد سے نکاح کافی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوْجًا غَیۡرَہٗ" میرا دوسرا نکاح تو ہوچکا،شاید میں یہاں سے طلاق لے کر رفاعہ کے لیے حلال ہوجاؤں گی۔

۵؎ عسیلہ عسل کی تصغیر ہے،عسل شہد کو کہتے ہیں پھر ہر لذت کو کہنے لگے۔ مقصد یہ ہے کہ تمہارے بیان کے مطابق عبد الرحمان تم سے صحبت نہ کرسکے اور حلالہ میں دوسرے خاوند کا صحبت کرنا شرط ہے لہذا تم ابھی رفاعہ کے لیے حلال نہیں ہوئیں، بعض علماء نے قرآن کی آیت سے بھی صحبت کا شرط ہونا ثابت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ تنکح کے معنی ہیں تجامع لہذا آیت کے



Total Pages: 807

Go To