Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

طلاق دے دے یا دیوانگی میں تو بھی طلاق نہیں ہوتی،یہ حدیث جامع صغیر،احمد،ابوداؤد،نسائی حاکم نے مختلف صحابہ سے مختلف الفاظ میں نقل فرمائی،بخاری نے تعلیقًا موقوفًا حضرت علی سے روایت کی غرضکہ حدیث صحیح ہے۔(مرقات)

3289 -[16]

 وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «طَلَاقُ الْأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ وَعِدَّتُهَا حَيْضَتَانِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لونڈی کی طلاقیں دو ہیں اور اسکی عدت دو حیض ۱؎ (ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ دارمی)

۱؎ یعنی لونڈی خواہ غلام کے نکاح میں ہو یا آزاد کے اس پر صرف دو طلاقیں پڑ سکتی ہیں،دو سے ہی مغلظہ ہوجائے گی کہ پھر بغیر حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکے گی،نیز لونڈی کی عدت بجائے تین حیض کے دو حیض ہیں۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ طلاق کی عدت حیض ہے نہ طہر یہ ہی احناف کہتے ہیں اور قرآن کریم میں جو ثلاثۃ قروء فرمایا گیا وہاں قروء کے معنی طہر نہیں بلکہ حیض ہیں۔دوسرے یہ کہ عدت و طلاق کا اعتبار عورت سے ہے نہ کہ مرد سے لہذا لونڈی کی طلاقیں بھی دو ہیں اور عدت بھی دو حیض، اس کا خاوند غلام ہو یا آزاد یہ ہی احناف کا قول ہے،امام شافعی و مالک اور احمد کے ہاں طلاق کا اعتبار مرد سے ہے۔خیال رہے کہ اگر لونڈی مہینہ سے عدت گزارے تو ڈیڑھ مہینہ عدت طلاق ہوگی،کیونکہ آزاد عورت کی عدت کے مہینہ تین ہیں اور لونڈی کے نصف چونکہ تین حیض کی تنصیف نہیں ہوسکتی لہذا اس کی عدت دو حیض ہوئے،بعض شوافع اس حدیث کو ضعیف کہتے ہیں،ان کا قول ہے کہ اس کی اسناد میں مظاہرہے ان سے سواء اس حدیث کے کوئی حدیث منقول نہیں مگر یہ غلط ہے حضرت مظاہر اہل بصرہ کے مشائخ میں سے ہیں،متقدمین محدثین میں سے کسی نے ان پر جرح نہ کی،نیز اس حدیث پر عام علماء کا عمل رہا عمل علماء ضعیف حدیث کو بھی قوی کردیتا ہے۔امام مالک فرماتے ہیں کہ کسی حدیث کا مدینہ منورہ میں مشہور ہوجانا اسے صحیح کردیتا ہے۔(مرقات)یہاں اس حدیث کے متعلق مرقات نے بڑی نفیس گفتگو فرمائی ہے،بہرحال طلاق و عدت میں عورت کا لحاظ ہے نہ کہ مرد کا۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3290 -[17]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُنْتَزِعَاتُ وَالْمُخْتَلِعَاتُ هُنَّ الْمُنَافِقَاتُ» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے کو نکاح سے نکالنے والیاں ۱؎ اور خلع کرنے والیاں منافقہ ہیں ۲؎(نسائی)

۱؎ یعنی خاوند کی نافرمان بیویاں جو نافرمانی کرکے خاوند کو طلاق دینے پر مجبور کریں اپنے کو نکاح کی قید میں نہ رکھیں۔

۲؎ یعنی جو بلا وجہ خلع کرکے خاوند سے طلاق حاصل کریں وہ بظاہر تو خاوند کی مطیع معلوم ہوتی ہیں مگر دل میں اس سے متنفر ہیں یہ ہی نفاق ہے حتی الامکان نباہ کی سعی کی جائے،ابونعیم نے حلیہ میں حضرت ابن مسعود سے روایت کی کہ باہر پھرنے والیاں اور خلع کرانے والیاں منافقہ ہیں۔

3291 -[18]

وَعَنْ نَافِعٍ عَنْ مَوْلَاةٍ لِصَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا بِكُلِّ شَيْءٍ لَهَا فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عمر. رَوَاهُ مَالك

روایت ہے حضرت نافع سے وہ صفیہ بنت ابوعبید کی مولاۃ سے راوی ۱؎ کہ انہوں نے اپنی ہر چیز کے عوض اپنے خاوند سے خلع کیا ۲؎ تو حضرت عبداﷲ ابن عمر نے اس کا انکار نہ فرمایا ۳؎(مالک)

 



Total Pages: 807

Go To