Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۱؎ تبوک مدینہ منورہ اور دمشق(شام)کے درمیان ایک مشہور جگہ ہے یہ غزوہ          ۹ھ؁ میں ہوا،آخری غزوہ یہ ہی ہے۔اسی غزوہ کا نام غزوہ عسرت یعنی سخت تنگی کا غزوہ ہے،بخاری شریف نے اسے بعد حجتہ الوداع لکھا ہے،یہ غلط ہے شاید کاتبِ کی غلطی ہے(مرقات)

۲؎ حنین مکہ معظمہ و طائف کے درمیان ایک جنگل کا نام ہے ذوالمجاز کے قریب ہے آج کل اسے سہل کہتے ہیں،فقیر نے طائف جاتے ہوئے اس کی زیارت کی یہ غزوہ      ۸ھ؁ میں فتح مکہ کے بعد ہوا۔

۳؎  سہوہ کا ترجمہ بعض لوگوں نے الماری کیا ہے مگر طاق نہایت صحیح کیونکہ اکثر بچیاں اپنی گڑیاں کھلونے طاقوں میں ہی رکھتی ہیں ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ گڑیاں لڑکیوں کے لیے کھیل بھی ہے،تعلیم بھی اس سے وہ کھانا پکانا سینا،پرونا بخوبی سیکھ جاتی ہے۔ام المؤمنین لڑکپن میں ہی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر شادی ہو کر آئی تھیں۔

۴؎ حضرت ام المؤمنین نے ہوا کو حضرت سلیمان علیہ السلام کا گھوڑا قرار دیا۔اور ظاہر ہے کہ ہوا حضرت سلیمان علیہ السلام کے حکم سے چلتی تھی۔رب تعالٰی فرماتاہے:"تَجْرِیۡ بِاَمْرِہٖ"اسے اڑانا قرار دیا اور اس سے اپنے گھوڑے کی سند بتائی،سبحان اﷲ چھوٹی عمر اور اتنا نفیس جواب،خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عائشہ صدیقہ سے نکاح دسویں سال نبوت یعنی ہجرت سے تین سال پہلے مکہ معظمہ میں دسویں شوال کو کیا،اس وقت آپ کی عمر چھ سال تھی اور یہ غزوہ      ۸ھ؁ اور     ۹ھ؁ میں ہوئے،اگرچہ اس وقت آپ بالغہ تھیں مگر عمر یقینًا کچی تھی اسی لیے گڑیاں بناتی اور ان سے کھیلتی تھیں۔

 ۵؎ یعنی آپ نے میرے اس جواب پر تبسم فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ عمل جائز تھا بعض علماء فرماتے ہیں ان گڑیوں اور اس گھوڑے کے آنکھ ناک کان نہ تھے صرف چیتھڑوں کے مجسمہ تھے اور ان اعضاء کے بغیر تصویر نہیں کہلاتی۔لہذا جائز تھی،بعض نے فرمایا کہ یہ واقعہ کھیل کی حرمت آنے سے پہلے کا ہے،مگر ترجیح اس کو ہے کہ بچوں کے کھلونوں کے احکام ہلکے ہیں۔(اشعہ)

الفصل الثالث

تیسری فصل

3266 -[29]

عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانٍ لَهُمْ فَقُلْتُ: لَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم أَحَق أَن يسْجد لَهُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنِّي أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانٍ لَهُمْ فَأَنْتَ أَحَقُّ بِأَنْ يُسْجَدَ لَكَ فَقَالَ لِي: «أَرَأَيْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِى أَكُنْتَ تَسْجُدُ لَهُ؟» فَقُلْتُ: لَا فَقَالَ: «لَا تَفْعَلُوا لَو كنت آمُر أحد أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍلَأَمَرْتُ النِّسَاءَ أَنْ يَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِهِنَّ لِمَا جَعَلَ اللَّهُ لَهُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ حق» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

 

3267 -[30] وَرَوَاهُ أَحْمد عَن معَاذ بن جبل

روایت ہے حضرت قیس ابن سعد سے فرماتے ہیں میں حیرہ گیا ۱؎ وہاں لوگوں کو دیکھا کہ اپنے سردار کو سجدہ کرتے ہیں ۲؎ تو میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا زیادہ حق دار ہیں کہ آپ کو سجدہ کیا جائے ۳؎ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا کہ میں حیرہ پہنچا تو انہیں دیکھا کہ اپنے سردار کو سجدہ کرتے ہیں تو آپ زیادہ حق دار ہیں کہ آپ کو سجدہ کیا جائے ۴؎ تو فرمایا بتاؤ تو اگر تم میری قبر پر گزرو تو کیا تم قبر کو سجدہ کرو گے ۵؎ میں نے عرض کیا نہیں تو فرمایا یہ بھی نہ کرو اگر میں کسی کو حکم کرتا کہ کسی کو سجدہ کرے تو عورتوں کو حکم دیتا کہ اپنے خاوندوں کو سجدہ کریں ۶؎ کیونکہ اﷲ تعالٰی نے خاوندوں کا ان پر حق قرار دیا(ابوداؤد)۷؎ احمد نے معاذ ابن جبل سے روایت کیا۔

احمد نے معاذ ابن جبل سے روایت کیا۔

 



Total Pages: 807

Go To