Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب عشرۃ النساء و ما لکل واحد من الحقوق

بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  اس باب میں دو باتیں مذکور ہوں گی،ایک یہ کہ مرد اپنی بیویوں کے ساتھ کیا برتاؤ کرے اور کس اخلاق سے زندگی گزارے۔ دوسرے یہ کہ خاوند کا بیوی پر کیا حق ہے اور بیوی کا خاوند پر کیا حق ہے،ان ہی دونوں چیزوں کو آج مسلمان بھول گئے۔اگر حضور کی تعلیم پر عمل ہو تو آج ہمارے گھروں کے حالات کیوں تباہ ہوں۔

3238 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا فَإِنَّهُنَّ خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ وَإِنَّ أَعْوَجَ شَيْءٍ فِي الضِّلَعِ أَعْلَاهُ فَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسْرَتَهُ وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ فَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے بیویوں کے متعلق نیکی کی وصیت قبول کرو ۱؎ کیونکہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور یقینًا پسلی کا ٹیڑھا حصہ اس کا اوپر کا ہے۲؎ تو اگر اسے سیدھا کرنے لگو تو ڑ دو گے اور اگر چھوڑ دو تو ٹیڑھا رہے گا۳؎ لہذا عورتوں کے متعلق وصیت قبول کرو (مسلم، بخاری)

۱؎  اس جملہ کے چند مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ میں تم کو اپنی بیویوں سے اچھے سلوک کی وصیت کرتا ہوں،تم لوگ قبول کرو ان سے اچھا برتاؤ کرو،یا تم لوگ اپنی بیویوں کے متعلق اچھی وصیت کیا کرو کہ ان کے ساتھ تمہارے عزیز و قارب اچھا سلوک کریں،یا اپنی بیویوں کو بھلائی کا حکم کرو،غرضکہ یہاں باب استفعال کئی احتمال رکھتا ہے۔(اشعہ مرقات،لمعات)

۲؎ یعنی حضرت حوا کی پیدائش آدم علیہ السلام کی پسلی کے اوپری حصہ سے  ہوئی جو ٹیڑھا ہے اور تمام عورتیں انہی حوا  کی اولاد سے ہیں فطری طور پر سب میں قدر کجی سخت مزاجی ہے اور رہے گی۔  حضرت حوّاکی  پیدائش کی تفصیل ہماری تفسیر نعیمی کلاں پارہ اول میں ملاحظہ کیجئے۔

۳؎ یعنی جو چیز ٹیڑھی بھی ہو خشک بھی وہ سیدھی نہیں ہوسکتی،پسلی کا اوپر حصہ ٹیڑھا اور خشک ہے اور وہ سیدھا نہیں ہوسکتا اسی طرح عورت بالکل سیدھی نہیں ہوسکتی،معلوم ہوا کہ اصل کا اثر شاخ میں ہوتا ہے۔

3239 -[2]

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ لَنْ تَسْتَقِيمَ لَكَ عَلَى طَرِيقَةٍ فَإِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَبِهَا عِوَجٌ وَإِنْ ذَهَبْتَ تقيمها كسرتها وَكسرهَا طَلاقهَا» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی وہ روش میں سیدھی ہر گز نہ ہوگی ۱؎ تو اگر تم اس سے نفع حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس سے نفع حاصل کرو حالانکہ اس میں ٹیڑھ ہو۲؎ اور اگر تم اسے سیدھا کرنے لگو تو توڑ دو گے اس کا توڑنا اس کا طلاق ہے ۳؎(مسلم)

۱؎ کیونکہ ٹیڑھا پن عورت کی فطرت میں داخل ہے تعلیم و تربیت سے کچھ درست ہوجاتی ہے مگر بالکل سیدھی نہیں ہوتی۔

 



Total Pages: 807

Go To