Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

3235 -[7]

عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ فَيَعْدِلُ وَيَقُولُ: «اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اپنی ازواج پاک کے درمیان باری مقرر فرماتے تھے بہت انصاف فرماتے تھے ۱؎ اور فرماتے تھے الہٰی یہ میری تقسیم ہے اس میں جس کا مالک ہوں پس تو مجھے اس میں عتاب نہ فرما جس کا تو مالک ہے میں مالک نہیں ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)

۱؎ ہر طرح عدل فرماتے تھے باری میں،خرچہ میں،ہدیہ و عطیہ میں،یہ ایک کلمہ تمام قسم کے عدل اور انصاف کو شامل ہے مگر باری کا عدل استحبابًا تھا نہ کہ وجوبًا کیونکہ آپ پر باری واجب نہ تھی۔

۲؎  یعنی برتاوے میں تو ہر طرح برابری کرتا ہوں رہا میلان قلبی اور دلی محبت وہ حضرت عائشہ صدیقہ سے زیادہ ہے،دل تیرے قبضہ میں ہے اور زیادتی میلان تیری طرف سے ہے،اس میں مجھ پر عتاب نہ فرمانا۔اس سے معلوم ہوا کہ خاوند پر برتاوے اور ادائے حقوق میں برابر ی کرنا لازم ہے،میلان قلبی اگر کسی بیوی کی طرف زیادہ ہو تو اس کا گناہ نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَنۡ تَسْتَطِیۡعُوۡۤا اَنۡ تَعْدِلُوۡا بَیۡنَ النِّسَآءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِیۡلُوۡا کُلَّ الْمَیۡلِ فَتَذَرُوۡہَا کَالْمُعَلَّقَۃِ

3236 -[8]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَتْ عِنْدَ الرَّجُلِ امْرَأَتَانِ فَلَمْ يَعْدِلْ بَيْنَهُمَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ سَاقِطٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ جب کسی کے پاس دو بیویاں ہوں پھر ان میں انصاف نہ کرے تو وہ قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کی ایک کروٹ ٹیڑھی ہوگی ۱؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)

۱؎ اس کروٹ ٹیڑھی ہونے سے اسے چلنے پھرنے میں سخت تکلیف بھی اور تمام محشر میں بدنامی بھی کہ ہر شخص پہچان لے گا کہ یہ ظالم خاوند ہے جس نے اپنی بیویوں میں انصاف نہ کیا تھا۔ فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر تمام بیویاں آزاد ہوں یا لونڈیاں تو سب میں یکسانیت کرے،اور اگر ایک بیوی آزاد ہو،دوسری لونڈی،تو آزاد کے ہاں دو دن رہے،لونڈی کے پاس ایک دن،نیز عبادات میں مشغول ہو کر بیوی بچوں سے بے خبر ہوجانا سخت منع ہے۔عبادت بھی کرو بیوی بچوں میں بھی مشغول رہو،ہفتہ میں دوبار ضرو ران کی خبر گیری کرے(مرقات)

الفصل الثالث

تیسری فصل

3237 -[9] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ بِسَرِفَ فَقَالَ: هَذِهِ زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلَا تُزَعْزِعُوهَا وَلَا تُزَلْزِلُوهَا وَارْفُقُوا بِهَا فَإِنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعُ نِسْوَةٍ كَانَ يَقْسِمُ مِنْهُنَّ لِثَمَانٍ وَلَا يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ قَالَ عَطَاءٌ: الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْسِمُ لَهَا بَلَغَنَا أَنَّهَا صَفِيَّةُ وَكَانَتْ آخِرهنَّ موتا مَاتَت بِالْمَدِينَةِ

وَقَالَ رَزِينٌ: قَالَ غَيْرُ عَطَاءٍ: هِيَ سَوْدَةُ وَهُوَ أصح وهبت يَوْمهَا لِعَائِشَةَ حِينَ أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَاقَهَا فَقَالَتْ لَهُ: أَمْسِكْنِي قَدْ وهبت يومي لعَائِشَة لعَلي أكون من نِسَائِك فِي الْجنَّة

روایت ہے حضرت عطاء ۱؎ سے فرماتے ہیں کہ ہم جناب ابن عباس کے ساتھ بی بی میمونہ کے جنازہ میں مقام سرف میں ۲؎ حاضر ہوئے آپ نے فرمایا یہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیوی پاک ہیں تو جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو نہ انہیں ہلاؤ نہ جھٹکادو۳؎ ان پر بہت نرمی کرو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس نو بیویاں تھیں جن میں سے آٹھ کے لیے باری مقرر فرماتے تھے اور ایک کے لیے باری مقرر نہ کرتے تھے ۴؎ حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ہم کو اطلاع پہنچی ہے کہ جن کے لیے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم باری مقرر نہ فرماتے تھے وہ بی بی صفیہ تھیں۵؎ انہیں کی وفات سب سے آخر میں ہوئی جو مدینہ پاک میں فوت ہوئیں ۶؎(بخاری مسلم)اور رزین فرماتے ہیں کہ عطاء کے علاوہ دیگر علماء نے فرمایا کہ وہ سودہ تھیں یہ ہی زیادہ صحیح ہے انہوں نے اپنا دن بی بی عائشہ کو دے دیا تھا جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں طلاق دینا چاہا تو آپ بولیں مجھے رکھیئے میں اپنا دن بی بی عائشہ کو دیتی ہوں تاکہ میں جنت میں آپ کی ازواج میں سے ہوں ۷؎

 



Total Pages: 807

Go To