Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب القسم

باری کا بیان  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ قسم قاف کے فتح سین کے جزم سے ہے بمعنی بانٹنا،حصہ مقرر کرنا،اسی سے ہے تقسیم،یہاں بیوی کے درمیان شب باشی کا حصہ مقرر کرنا،باری مقرر کرنا مراد ہے۔ خیال رہے کہ چند بیویوں میں عدل و انصاف کرنا نہایت ہی اہم واجب ہے۔ دل کے میلان میں تو برابری ناممکن ہے اس کا حساب نہ ہوگا۔رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَنۡ تَسْتَطِیۡعُوۡۤا اَنۡ تَعْدِلُوۡا بَیۡنَ النِّسَآءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ"۔رہا عطیہ،خرچہ کپڑے،زیور،ہدیہ،سوغات اور شب باشی ان تمام میں عدل و انصاف واجب ہے،ہاں بچوں والی عورت کو تنہا عورت سے زیادہ خرچ دیا جائے بچوں کی وجہ سے،مرقات نے یہاں فرمایا کہ چار عورتوں سے نکاح کرنا اس وقت حلال ہے جب ظلم کا خطرہ نہ ہو،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوۡا فَوٰحِدَۃً"اگر تم کو انصاف نہ کرنے کا خطرہ بھی ہو تو ایک ہی نکاح کرو اس خطرہ پر تعدد نکاح سخت ممنوع ہے ۔یہ بھی خیال رہے کہ صحبت یعنی جماع میں برابری واجب نہیں بلکہ ہر بیوی کے پاس رات گزارنے میں برابری ضروری ہے،رات اصل مقصود ہے،دن اس کے تابع،اگر کوئی آدمی رات میں نوکری کرتا ہو تو دن میں رہنے میں برابری کرے،ایک کی باری میں دوسری کے پاس نہ رہے،نہ چند بیویوں کو اکٹھا رہنے پر مجبور کرے،وہ جو احادیث میں ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم ایک شب میں تمام ازواج پاک کے پاس تشریف لے گئے اور ہر بار غسل کیا،یہ یا تو آپ کی خصوصیات سے ہے کہ آپ پر بیویوں میں عدل واجب نہ تھا یا عدل واجب ہونے سے پہلے ہے یا ان ازواج کی اجازت سے تھا۔(لمعات،مرقات،اشعہ)

3229 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ عَنْ تِسْعِ نِسْوَةٍ وَكَانَ يقسم مِنْهُنَّ لثمان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے نو بیویاں چھوڑ کر وفات پائی ۱؎ جن میں سے آٹھ کے لیے باریاں مقرر فرماتے تھے ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ (۱)حضرت عائشہ(۲)حفصہ(۳)سودہ(۴)ام سلمہ(۵)صفیہ(۶)میمونہ(۷)ام حبیبہ(۸)زینب(۹)جویریہ،یہ بیویاں حضور صلی اللہ علیہ سلم کی وفات کے وقت موجود تھیں،حضرت خدیجہ پہلے ہی وفات پاچکی تھیں،اہمہ بنت جوں،اور عائشہ خثعمیہ وغیرہ کو طلاق ہوچکی تھی۔

۲؎ اس کی وجہ آگے آرہی ہے کہ بی بی سودہ نے اپنی باری حضرت عائشہ صدیقہ کو بخش دی تھی اس لیے ان کے ہاں دو دن قیام رہتا تھا،باقی سات کے ہاں ایک ایک دن،اور دورہ جناب عائشہ صدیقہ پر ختم ہوتا تھا۔یہ باریاں مقرر فرمانا آپ پر شرعًا واجب نہ تھا،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَتُــٔۡوِیۡۤ اِلَیۡکَ مَنۡ تَشَآءُ"۔(مرقات)

3230 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ سَوْدَةَ لَمَّا كَبِرَتْ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ جَعَلْتُ يَوْمِي مِنْكَ لِعَائِشَةَ فَكَانَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَسَّمُ لِعَائِشَةَ يَوْمَيْنِ يَوْمَهَا وَيَوْم سَوْدَة

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ بی بی سودہ جب بوڑھی ہوگئیں ۱؎ تو بولیں یارسول اﷲ میں نے اپنی باری کا دن حضرت عائشہ کو دے دیا چنانچہ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جناب عائشہ کے لیے دو دن دیتے تھے ایک ان کا اپنا دوسرا سودہ کا ۲؎(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 807

Go To