Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۳؎ یعنی جو دنیا میں محض اپنی ریا کاری کے لیے کوئی کام کرے گا تو اﷲ تعالٰی کل قیامت میں اس کو رسوا فرمائے گا،اعلان ہوگا کہ یہ ریا کار تھا،یا جو دنیا میں محض ناموری کے لیے نیکی کرے گا اس کی جزا صرف یہاں کی ناموری ہوگی قیامت میں کوئی ثواب نہ ملے گا،ثواب کے لیے اخلاص چاہیے۔

۴؎ یہ حدیث طبرانی نے حضرت ابن عباس سے نقل فرمائی اس کا مضمون یہ ہے کہ شادی میں ایک دن کھا نا سنت ہے دو دن کا کھانا افضل اور تین دن کا کھانا دکھلاوا۔(مرقات)

3225 -[16]

وَعَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ طَعَامِ الْمُتَبَارِيَيْنِ أَنْ يُؤْكَلَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ مُحْيِي السُّنَّةِ:وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا

روایت ہے حضرت عکرمہ سے ۱؎ وہ حضرت ابن عباس سے راوی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے دو ضدم ضدا کرنے والوں کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ۲؎ ابوداؤد،اور محی السنہ نے فرمایا کہ صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث بروایت عکرمہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے مرسلًا مروی ہے۳؎

۱؎ یہ عکرمہ ابن ابوجہل نہیں ہیں بلکہ حضرت ابن عباس کے آزاد کردہ غلام ہیں بربر کے رہنے ولے ہیں، فقہائے مدینہ سے ہیں۔

۲؎ یعنی جب دو شخص ایک دوسرے کے مقابلہ میں دعوت کریں ہر ایک یہ چاہے کہ میرا کھانا دوسرے سے بڑھ جائے کہ میری عزت ہو دوسرے کی ذلت تو ایسی دعوت قبول نہ کرے۔مثلًا شادی میں دلہن و دولہا والے مقابلہ میں دعوت کریں تو کسی کی دعوت قبول نہ کرو یا کسی برادری میں کسی کی شادی میں دعوت ہوئی کچھ دن کے بعد دوسرے کے ہاں شادی ہوئی اس نے بڑھ چڑھ کر کھانے پکائے اس نیت سے کہ پہلے کا نام نیچا ہوجائے اور میرا نام اونچا،تو یہ دعوتیں قبول نہ کرو۔بزرگان دین ایسی دعوتیں قبول نہ کرتے تھے آج کل مسلمان اسی مقابلہ کی رسوم میں تباہ ہوگئے اور نام کسی کا بھی نہیں ہوتا۔

۳؎ یعنی صحیح یہ ہے کہ اس کی اسناد میں حضرت ابن عباس کا نام نہیں ہے،حضرت عکرمہ نے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم تک مرفوع کہا ہے اسی کو مرسل کہتے ہیں کہ تابعی حضور کی طرف نسبت کردیں۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3226 -[17]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«الْمُتَبَارِيَانِ لَا يُجَابَانِ وَلَا يُؤْكَلُ طَعَامُهُمَا».قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: يَعْنِي المتعارضين بالضيافة فخراً ورياء

روایت ہے حضر ت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دو ضدیوں کی دعوت نہ قبول کی جائے نہ ان کا کھانا کھایا جائے ۱؎ امام احمد نے فرمایا کہ ضدیوں سے مراد دعوت میں فخر و ریا کے لیے مقابلہ کرنے والے ہیں۲؎

۱؎ یعنی جو لوگ مقابلہ کی دعوتیں کریں تو ان کے گھر دعوت میں نہ جاؤ اور اگر وہ کھانا تمہارے بھیج دیں تو نہ لو بلکہ واپس کردو تاکہ انہیں نصیحت ہو اس میں تبلیغ بھی اصلاح بھی اور قوم کو تباہی سے بچانا بھی آج شادیوں میں باجے،گانے کھانے جہیز وغیرہ سب ہی میں مقابلہ ہوتے ہیں اور مسلمان تباہ ہورہے ہیں۔

 



Total Pages: 807

Go To