Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

کتاب المناسک

کتاب حج کے ارکان ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ مناسك منسك کی جمع ہے جو نسیکہ سے بنا ،نسیکہ کے معنی ہیں عبادت اسی لیے قربانی کو نسیکہ اور قربانی کے وقت یا جگہ کو منسك کہا جاتاہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنۡسَکًا اب شریعت میں مناسک ارکان حج کو کہتے ہیں یعنی اس باب میں حج کا ذکر ہوگا۔حج کے معنی ہیں قصد اور ارادہ،عبادت کی نیت سے کعبہ شریف کا ارادہ کرنا حج ہے۔حج کا سبب کعبہ معظمہ ہے،کعبہ شریف سب سے پہلے فرشتوں نے بنایا بیت المعمور کے مقابل اسی کا نام فرشتوں کے ہاں ضراح تھا،آدم علیہ السلام کی پیدائش سے دو ہزار برس پہلے سے فر شتے اس کا حج کرتے تھے،پھر آدم علیہ السلام سے لے کر ہمارے حضور صلی اللہ علیہ و سلم تک صرف انبیائے کرام نے حج کعبہ کیا،کسی امت پر حج فرض نہ تھا،     ۵ھ؁  یا      ۶ھ؁   یا      ۹ھ؁   میں مسلمانوں پر حج فرض فرمایا گیا،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرضیت حج سے پہلے قبل ہجرت جو حج کیے وہ بطور عادت ِکریمہ تھے،آدم علیہ السلام نے ہندوستان سے پیدل چل کر چالیس حج کیے،حضور علیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج میں حضرت موسی ٰ علیہ السلام و یونس علیہ السلام و عیسیٰ علیہ السلام نے بھی شرکت کی اور حضور علیہ السلام کے ساتھ حج کیا ۔معلوم ہوا کہ انبیائے کرام زندہ ہیں عبادتیں کرتے ہیں مگر ان کی یہ عبادتیں شرعی تکلیف سے نہیں ان کی خود اپنی خوشی سےہے جیسے موسیٰ علیہ السلام کو حضور علیہ السلام نے ان کی قبر میں نماز پڑھتے دیکھا۔(مرقات و لمعات و اشعہ)

2505 -[1]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فُرِضَ عَلَيْكُمُ الْحَجُّ فَحُجُّوا» فَقَالَ رَجُلٌ: أَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَسَكَتَ حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا فَقَالَ: " لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ " ثُمَّ قَالَ: ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْء فدَعُوه ". رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں ہم پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے خطبہ پڑھا ۱؎ تو فرمایا اے لوگو ! تم پر حج فرض کیا گیا لہذا حج کرو ۲؎ ایک شخص نے عرض کیا ۳؎ یا رسول اﷲ کیا ہر سال حضور خاموش رہے حتی کہ اس شخص نے تین بار کہا ۴؎ تو فرمایا کہ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال واجب ہوجاتا اور تم نہ کرسکتے ۵؎ پھر فرمایا مجھے چھوڑے رہو جس میں میں تم کو آزادی دوں ۶؎ کیونکہ تم سے اگلے لوگ اپنے نبیوں سے زیادہ پوچھ گچھ اور زیادہ جھگڑنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئے ۷؎ لہذا جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو جہاں تک ہوسکے کر گزرو اور جب تمہیں کسی چیز سے منع کروں تو اسے چھوڑدو ۸؎(مسلم)

۱؎ یہ خطبہ حج فرض ہونے کے سال مدینہ منورہ میں تھا،    ۸ھ؁ میں فتح مکہ ہوئی تو بعض لوگوں نے حج کیا،     ۹ھ؁ میں حضرت ابوبکر صدیق نے لوگوں کو حج کرایا اور    ۱۰ھ؁ میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حج فرمایا،ابن ہمام فرماتے ہیں کہ حج کی فرضیت     ۵ھ؁   یا      ۶ھ؁  یا      ۹ھ؁  میں ہے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا اتنے عرصہ تک حج نہ کرنا اس لیے تھا کہ آپ کو اپنی زندگی اور اپنے حج کرنے کا علم تھا۔حق یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ہجرت سے پہلے بھی دو یا تین حج کیے ہیں جیساکہ ترمذی،ابن ماجہ و حاکم نے حضرت جابر وغیرہم سے روایت کی۔(مرقات)

۲؎ اگر حج کی فرضیت فتح مکہ سے پہلے     ۵ھ؁   یا      ۶ھ؁ میں ہوئی تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جب تمہیں مکہ معظمہ پہنچنا میسر ہوجائے تو حج کرنا،فرض تو ابھی ہوگیا ہے مگر اس کی ادا جب لازم ہوگی اور اگر فتح مکہ کے بعد     ۹ھ؁  میں فرض ہوا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس سال ہی حج کرو۔

 



Total Pages: 445

Go To