$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2485 -[4]

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُلْ اللَّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ وبالسداد سداد السهْم» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں مجھ سے رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے علی کہو الٰہی مجھے ہدایت دے مجھے ٹھیک رکھ ۱؎ اور ہدایت سے راستہ کی ہدایت کا خیال کر نا اور درستی سے تیر جیسی درستی مراد لینا ۲؎ (مسلم)

۱؎ دنیا  میں انسان سوار کی طرح ہے،مسافر کی سواری کتنی ہی اچھی ہو لیکن اگر اسے راستہ صحیح نہ ملے یا صحیح راستہ تو ملے مگر اس پر صحیح چل نہ سکے،تو کبھی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔اس دعا کا مقصد یہ ہے کہ مولٰی مجھے اپنے تک پہنچنے والا راستہ بھی دکھا اور دکھا کر اس پر چلنے کی توفیق بھی نصیب کرے۔

۲؎ یعنی جب یہ دعا مانگو تو ہدایت سے راہ الٰہی مراد لو جس پرچلنے سے رب تعالٰی تک پہنچا جاسکے اور درستی و سیدھائی سے کامل درستی اور پورا سیدھا پن مراد لو،تیر کی تشبیہ سے یہ ہی مراد ہے اس جملہ کی اور شرحیں بھی کی گئی ہیں مگر یہ شرح بہت قوی ہے۔

2486 -[5]

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِي عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ الرجل إِذا أسلم علمه النَّبِي صلى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَدْعُوَ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابو مالک اشجعی سے وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اسلام لاتا ہے تو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نماز سکھاتے ۱؎ پھر اسے حکم دیتے کہ ان کلمات سے دعا مانگا کرے الٰہی مجھے بخش دے مجھ پر رحم کر مجھے ہدایت دے مجھے عافیت دے مجھے روزی دے ۲؎ مسلم

۱؎ معلوم ہوا کہ مسلمان ہوتے ہی نماز فرض ہوجاتی ہے،جب تک کہ قرآن شریف و دیگر ارکان یاد نہ ہوں وہ جماعت سے ادا کرتا رہے اور بہت جلد خود یاد کرے یہاں نماز سے مراد ترتیب وار نماز کے مسائل ہیں۔

۲؎  ہدایت سے مراد یا تو ملی ہوئی ہدایت پر قائم رکھنا ہے یا ایمان کی ہدایت کے بعد نیک اعمال کی ہدایت مانگنا ہے،عافیت سے مراد دینی و دنیاوی امان ہے،رزق سے مراد حلال روزی ہے۔

2487 -[6] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن أنسٍ قَالَ: كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وقنا عَذَاب النَّار»

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زیادہ دعا یہ تھی ۱؎ الٰہی ہم کو دنیا میں بھلائی دے ۲؎ اور آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں آگ سے بچالے (مسلم،بخاری)۳ ؎

۱؎ کہ آپ نماز کے اندر اور دعا بعد نماز میں اور اس کے علاوہ اکثر حالات میں یہ دعا مانگا کرتے تھے۔

۲؎  یہ دعا بہت ہی جامع ہے جس میں دین و دنیا کی ساری نعمتیں مانگی گئی ہیں،رب تعالٰی نے قرآن کریم میں بھی یہ دعا سکھا کر اس کے مانگنے والوں کے متعلق فرمایا:"اُولٰٓئِکَ لَہُمْ نَصِیۡبٌ مِّمَّاکَسَبُوۡا"الایہ۔قرآن شریف میں اس دعا اور استغفار کے بڑے فوائد بیان فرمائے۔مطلب یہ ہے کہ اے ہمارے پالنے والے ہم کو موت سے پہلے والی تمام نعمتیں عطا فرماجیسے صحت،روزی،نیکیوں کی توفیق،دین پر استقامت،حسنِ خاتمہ،علم و عمل وغیر ہ اور آخرت کی تمام نعمتیں بخش جیسے حساب قبر و حشر میں آسانی و کامیابی،اعمال کی قبولیت،جنت اور وہاں کی تمام نعمتیں اور ہم کو دوزخ سے بالکل بچالے کہ وہاں کا عذاب ہم کو بالکل نہ چھوئے یہ نہ ہو کہ سزا پا کر جنت میں جائیں۔حضرت شیخ نے اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ اس کے مانگتے



Total Pages: 445

Go To
$footer_html