Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب جامع الدعاء

جامع دعائیں  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ گزشتہ بابوں میں خاص اوقات یا خاص مقاصد کی دعائیں مذکور ہوئیں،اس باب میں وہ دعائیں بیان ہوں گی جوکسی وقت اور کسی حالت و مقصد سے خاص ہیں جن کے الفاظ تھوڑے،معنے و مقصد بہت زیادہ ہیں۔(اشعہ و مرقات)

2482 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي وَجَهْلِي وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جَدِّي وَهَزْلِي وَخَطَئِي وَعَمْدِي وكلُّ ذلكَ عِنْدِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أعلنت وَمَا أَنْت بِهِ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ وَأَنت على كل شَيْء قدير»

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ اشعری سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔الٰہی میری خطائیں،میری نادانی اور میرے ہر کام میں حد سے بڑھ جانے کو بخش دے  ۱؎ اور جو کچھ تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے اسے بخش دے ۲؎ الٰہی میری دانستہ اور نادانستہ اور ساری خطائیں اور برے ارادے جو میرے پاس ہیں ۳؎ بخش دے الٰہی وہ بخش دے جو میں نے آگے کیے اور جو پیچھے کیے جو چھپ کرکیے۴؎ اور جو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے ۵؎ تو ہی آگے بڑھانے والا ہے تو ہی پیچھے کردینے والا ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے ۶؎ (مسلم،بخاری) ۷؎

۱؎ خطا سے مراد مطلقًا گناہ ہیں اور جہل سے مراد ان چیزوں سے ناواقفیت جن سے واقف ہونا فرض تھا یا وہ بدعملیاں ہیں جو دینی احکام سے ناواقفیت کی وجہ سے سرزد ہوجائیں۔اسراف سے مراد مطلقًا زیادتی ہے یعنی بندگی کی حدود  توڑ دینا،اسراف خطاء سے زیادہ عام ہے۔

۲؎ یعنی میرے سارے وہ گنا جو مجھے یاد بھی نہ رہے یا وہ گناہ جنہیں میں نیکی سمجھ کر بیٹھا مگر واقع میں وہ گناہ تھے وہ بھی بخش دے۔

۳؎ یعنی میرے سارے وہ گناہ جو ابھی تک بخشے نہ گئے بلکہ میرے پاس یعنی میرے نامہ اعمال میں موجود ہیں وہ بخش دے۔ خیال رہے کہ میرے ارادے بھی گناہ ہیں ہاں میرے خیالات جو غیر اختیاری طور پر دل میں آجائیں وہ معاف ہیں لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب میرے ارادے گناہ ہی نہیں تو ان سے معافی مانگنے کے کیا معنے۔

۴؎  یعنی پرانے اور نئے گناہ یوں ہی علانیہ اور خفیہ گناہ بخش دے،علانیہ خفیہ سے زیادہ برے ہیں کیونکہ گناہ کا اظہار بھی تو گناہ ہے۔

۵؎ میرے وہ گناہ بھی بخش دے جو میرے خیال میں تو معمولی و صغیرہ ہیں مگر تیرے علم میں بڑے ہیں اور کبیرہ ہیں۔خیال رہے کہ گناہ صغیرہ ہمیشہ کرنے سے کبیرہ بن جاتا ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَلَمْ یُصِرُّوۡا عَلٰی مَا فَعَلُوۡا"اور کبھی بندے کے منہ سے ایک معمولی سی بات نکل جاتی ہے جسے بندہ محسوس بھی نہیں کرتا مگر رب تعالٰی کے نزدیک بندہ اس سے دوزخی بن جاتا ہے۔اس قسم کی تمام دعائیں ہماری تعلیم کے لیے ہیں ورنہ حضرات انبیاء بعد نبوت تو ہر گناہ صغیرہ یا کبیرہ سے معصوم ہیں اور قبل نبوت گناہ کبیرہ سے اور ان صغیرہ گناہوں سے معصوم ہیں جو نفرت کا باعث ہوں اور ہمارے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے تو نبوت سے پہلے یا بعد کبھی کسی گناہ کا ارادہ بھی نہ کیا چہ جائیکہ گناہ کرنا۔اس عظمت انبیاء کی نفیس تحقیق ہماری کتاب "قہر کبریا برمنکرین عصمت انبیاء"میں ملاحظہ کیجئے اور یہاں مرقات نے بھی اس پر کچھ بحث کی ہے،تفسیرات احمدیہ اور شرح فقہ اکبر میں اس مسئلہ پر مکمل بحث کی۔

 



Total Pages: 445

Go To