$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2481 -[25]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْكُفْرِ وَالدَّيْنِ» فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْدِلُ الْكُفْرَ بِالدَّيْنِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» . وَفِي رِوَايَةٍ «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ» . قَالَ رَجُلٌ: وَيُعْدَلَانِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ کہتے سنا میں اﷲ کی پناہ لیتا ہوں کفر اور قرض سے ۱؎ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اﷲ کیا آپ کفر کو قرض کے برابر سمجھتے ہیں فرمایا ہاں ۲؎ اور ایک روایت میں ہے الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں کفر اور فقیری سے ایک شخص بولا کیا یہ دونوں برابر ہیں فرمایا ہاں ۳؎ (نسائی)

۱؎ قرض سے وہ قرض مراد ہے جو مقروض پر غالب آجائے جسے مقروض ادا نہ کرسکے اور اس کی وجہ سے وہ ذلیل اور رسواء ہو،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے قرض تو لیا ہے کیونکہ جس قرض سے پناہ مانگی ہے وہ اور قرض ہے اور جو لیا وہ  اور ہے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ ضرورۃً خصوصًا نکاح دوسری دینی ضرورتوں کے لیے قرض لینا سنت ہے جب کہ ادا کی پوری نیت ہو،نکاح کے قرض سے مراد بھاری جہیز یا حرام رسموں کے لیے قرض نہیں،یہ تو فضول خرچی ہے بلکہ وہ ضروری خرچ مراد ہیں جو حدیث شریف سے ثابت ہیں۔

۲؎ کیونکہ مجبور مقروض اکثر جھوٹے وعدے کرتا ہے،جھوٹے وعدے منافق کی علامت ہیں،نیز کافر کا مسلمان مقروض کبھی قرض کے دباؤ میں اسلام چھوڑ دیتا ہے جیسا کہ ضلع متھرا  اور ضلع آگرہ کے ملکھانہ راجپوتوں میں دیکھا گیا،شُدّھی کا فتنہ زیادہ تر قرض سے پھیلا۔

۳؎ کیونکہ فقیر بے صبرے عمومًا چوری،جھوٹی گواہی دے کر گناہ تو کیا ہی کرتے ہیں مگر کبھی رب تعالٰی کی ایسی شکایتیں کر ڈالتے ہیں جو صریح کفر ہوتی ہیں،یہاں وہ ہی فقر مراد ہےجس کے ساتھ بے صبری ہو،الفقرفخری والا فقر کچھ اور ہے۔


 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html