$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۲؎ یعنی میرا  اسلام یہود پر  اتنا گراں ہے اور وہ میرے ایسے دشمن ہوگئے ہیں کہ اگر میرے پاس یہ عمل نہ ہوتا تو جادو گر یہودی اپنے جادو کے زور سے میری شکل یا میری عقل گدھے کی سی کر دیتے۔خیال رہے کہ جادو سے عقل بھی خراب کی جاسکتی ہےاور اگر جادو قوی ہو تو شکل بھی بدل جاتی ہے،فرعون کے جادوگروں نے رسّوں اور بلّوں کو سانپ بنادیا تھا مگر حقیقت تبدیل نہیں ہوتی،بعض شعبدہ باز مٹی کو روپیہ بنادیتے ہیں مگر پھر پیسہ پیسہ لوگوں سے مانگتے ہیں اور معجزہ میں حقیقت تبدیل ہوجاتی ہے عصائے موسوی واقع میں سانپ بن جاتا تھا اس کی پوری بحث ہماری تفسیر نعیمی میں دیکھو۔(از مرقات و لمعات)

۳؎ یعنی میں اﷲ کی ذات اور اس کے ان کلموں کی پناہ لیتا ہوں کہ جسے ان کی حفاظت نصیب ہو جائے وہ ہر برے بھلے کے شر سے بچ جائے ان کے حصار کو نہ توڑ سکے۔برے سے مراد شیاطین ہیں اور بھلے سے مراد انسان کہ یہ بذات خود تو بھلا ہے مگر اس میں کبھی شر پیدا ہوجاتی ہے،کلمات اﷲ کے معنے بار ہا بیان کیے جاچکے۔

۴؎ اس دعا میں اﷲ تعالٰی کی ذات اور اﷲ کے کلمات یعنی آیاتِ قرآنیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اور اﷲ تعالٰی کے ناموں کی پناہ لی گئی ہے۔معلوم ہوا کہ ماسوی اﷲ کی پناہ لینا جائز ہے،خَلَقَ،ذَرَءَ اور بَرَءَ تینوں قریب المعنے ہیں،عدم سے وجود بخشنا خلق ہے، موجودات کو عالم میں پھیلانا ذَرَءَ اور ہر چیز کو اس کے حال کے مطابق صورت و سیرت بخشنا بَرَءَ۔(اشعہ)

2480 -[24]

وَعَن مُسلم بن أبي بَكرةَ قَالَ: كَانَ أَبِي يَقُولُ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ: اللَّهُمَّ إِن أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ فَكُنْتُ أَقُولُهُنَّ فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ عَمَّنْ أَخَذْتَ هَذَا؟ قُلْتُ: عَنْكَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يقولهُنَّ فِي دُبرِ الصَّلاةِ. رَوَاهُ النَّسَائِيّ وَالتِّرْمِذِيّ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يُذْكَرْ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ وَرَوَى أَحْمَدُ لَفْظَ الْحَدِيثِ وَعِنْدَهُ: فِي دُبُرِ كل صَلَاة

روایت ہے حضرت مسلم ابن ابوبکرہ سے فرماتے ہیں کہ میرے والد ہر نماز کے بعد یہ پڑھا کرتے تھے الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں کفر،فقیری اور قبر کے عذاب سے تو  میں بھی پڑھنے لگا ۱؎ آپ نے فرمایا اے میرے بچے تو نے یہ دعا کس سے لی میں نے کہا آپ سے ۲؎ فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ہر نماز کے بعد یہ کلمات پڑھا کرتے تھے ۳؎ (ترمذی،نسائی) لیکن نسائی نے نماز کے بعد کا ذکر نہ کیا اور احمد نے اس حدیث کے الفاظ روایت کیے اور ان کے نزدیک ہر نماز کے پیچھے ہے۔

۱؎ نماز کے بعد سے مراد ہے سلام پھیرنے کے بعد،کفر سے ہر قسم کا کفر مراد ہے اور فقر سے فقیری کے فتنے یا کفران نعمت یعنی دل کا فقر مراد ہے۔ عذابِ قبر سے وہ اعمال مراد ہیں جو عذابِ قبر کا باعث ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بچوں کے سامنے تلاوت قرآن اوردعاؤں کا ورد چاہیےتاکہ وہ اچھی باتیں سیکھیں،اب تو مسلمان بچوں کو گانا بجانا سکھاتے ہیں۔

۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ دعائے ماثورہ جو بزرگوں سے منقول ہو اس دعا سے بہتر ہے جو ہم خود بنائیں کیونکہ اس میں الفا ظ اور زبان دونوں کی تاثیریں جمع ہوتی ہیں۔

۳؎ یعنی میں بھی اس دعا کا موجد نہیں ہوں بلکہ حضور علیہ السلام کا ناقل ہوں۔اس حدیث کی بنا پر صوفیاء فرماتے ہیں کہ قرآن و حدیث کی دعائیں محض سن کر پڑھنا بھی مفید ہیں اگر کسی عامل کی اجازت بھی مل جائے تو بہت اچھا۔

2481 -[25]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْكُفْرِ وَالدَّيْنِ» فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْدِلُ الْكُفْرَ بِالدَّيْنِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» . وَفِي رِوَايَةٍ «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ» . قَالَ رَجُلٌ: وَيُعْدَلَانِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ کہتے سنا میں اﷲ کی پناہ لیتا ہوں کفر اور قرض سے ۱؎ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اﷲ کیا آپ کفر کو قرض کے برابر سمجھتے ہیں فرمایا ہاں ۲؎ اور ایک روایت میں ہے الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں کفر اور فقیری سے ایک شخص بولا کیا یہ دونوں برابر ہیں فرمایا ہاں ۳؎ (نسائی)

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html