Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

ہے وہ کفار کے جنتر منتر کے تعویذ ہیں جن میں شرکیہ الفاظ ہوں۔تیسرے یہ کہ دعاؤں کے الفاظ بھی نافع ہیں اور ان کے نقوش بھی،بلکہ وہ کاغذ بھی جن پر یہ نقوش لکھے جائیں،بعض دعائیں لکھ کر دھو کر ان کا پانی پلایا جاتا ہے ان کی اصل بھی یہ حدیث بن سکتی ہے۔اس پانی اور اس کاغذ کو اﷲ کے نام سے نسبت ہوگئی تو شفا بن گئے،حضرت جبریل کی گھوڑی کی ٹاپ کی خاک نے سونے کے بچھڑے میں جان ڈال دی،ایوب علیہ السلام کے پاؤں کا دھون شفا تھا۔(قرآن حکیم)آبِ زمزم شفا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کی ایڑی سے جاری ہوا۔(حدیث پاک)

2478 -[22]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَتِ الْجَنَّةُ: اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَمَنِ اسْتَجَارَ مِنَ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَتِ النَّارُ: اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنَ النَّارِ " رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو اﷲ سے تین بار جنت مانگے تو جنت کہتی ہے الٰہی اسے جنت میں داخل فرمادے اور جو تین بار آگ سے پناہ مانگے تو آگ کہتی ہے الٰہی اسے آگ سے امان دے دے ۱؎ (ترمذی،نسائی)

۱؎ یعنی جو روزانہ صبح و شام یا دن میں ایک بار یا عمر میں ایک بار تین دفعہ یہ کہے"اللّٰھُمَّ ادْخِلْنِی الْجَنَّۃَ" اور تین دفعہ یہ کہہ لے"اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ"تو خود  جنت اس کے لیے داخلہ کی دعا کرے گی اور خود  دوزخ  اپنے سے پناہ کی بارگاہ الٰہی میں عرض کرے گی۔حق یہ ہے کہ حدیث اپنے ظاہر پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں،جنت کے درو دیوار،برگ و بار،وہاں کے حور و غلمان و فرشتے سبھی اس لیے دعا کرتے ہیں،قرآن کریم فرماتا ہے:"وَ تَقُوۡلُ ہَلْ مِنۡ مَّزِیۡدٍ" آگ کہے گی اے خدا مجھے اور زائد کردے اور فرماتا ہے:"وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ"ہر چیز رب تعالٰی کی تسبیح وتمحید کرتی ہے،حضور علیہ السلام سے پتھروں،لکڑیوں نے کلام کیا لہذا نہ تو یہ کہنے کی ضرورت ہے کہ جنت بزبان حال کہتی ہے اور نہ یہ کہ وہاں کے حورو غلمان و ملائکہ کہتے ہیں۔(لمعات و مرقات)

الفصل الثالث

تیسری فصل

2479 -[23]

عَنِ الْقَعْقَاعِ: أَنَّ كَعْبَ الْأَحْبَارِ قَالَ: لَوْلَا كَلِمَاتٌ أَقُولُهُنَّ لَجَعَلَتْنِي يَهُودُ حِمَارًا فَقِيلَ لَهُ: مَا هُنَّ؟ قَالَ: أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْعَظِيمِ الَّذِي لَيْسَ شَيْءٌ أَعْظَمَ مِنْهُ وَبِكَلِمَاتِ اللَّهِ التامَّاتِ الَّتِي لَا يُجاوزُهنَّ بَرٌّ وَلَا فاجرٌ وَبِأَسْمَاءِ اللَّهِ الْحُسْنَى مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وبرأ. رَوَاهُ مَالك

روایت ہے حضرت قعقاع سے کہ جناب کعب احبار فرماتے ہیں ۱؎ کہ اگر میں تین کلمات نہ کہہ لیتا ہوتا تو یہود تو مجھے گدھابنا دیتے ۲؎  ان سے عرض کیا گیا وہ کیا ہیں فرمایا پناہ لیتا ہوں میں اﷲ کی عظمت والی ذات کی جس سے بڑی کوئی چیز نہیں ۳؎ اور اﷲ کے پورے کلموں کی جن سے کوئی نیک کار و بدکار  آگے نہیں بڑھ سکتا اور اﷲ کے اچھے ناموں کی جو مجھے معلوم ہیں اور معلوم نہیں ان تمام کی شر سے جنہیں رب نے پیدا کیا پھیلایا اور ٹھیک کیا ۴؎ (مالک)

۱؎ قعقاع تابعی ہیں،کعب احبار یہود کے بڑے عالم تھے،انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا زمانہ پایا مگر ملاقات نہ کرسکے،زمانہ فاروقی میں ایمان لائے لہذا دونوں حضرات تابعی ہیں۔

 



Total Pages: 445

Go To