Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۳؎  سبحان اﷲ! کیا پیاری عرض ہے۔یعنی مولٰی عزت والے آقا اپنے غلاموں کو ذلیل نہیں ہونے دیتے،تجھے اپنی عزت و غلبہ کا واسطہ کہ مجھے ذلت کے اسباب یعنی گمراہی وغیرہ سے بچالے۔

۴؎ اس جملہ میں مسلمان کا رد ہے جو مصیبتوں میں جنات کی پناہ لیتے تھے خصوصًا بحالت سفر جب کسی منزل پر ٹھہرتے یعنی فانی کی پناہ بھی فانی ہے باقی کی پناہ بھی باقی،تیری پناہ دنیا و آخرت ہر جگہ کام آئے گی۔خیال رہے کہ سردی گرمی میں لباس و مکان کی پناہ بیماری میں حکیم کی،مظلومیت میں حاکم کی،معصیت میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی پناہ اس دعا کے خلاف نہیں کہ یہ تمام چیزیں رب تعالٰی ہی کے مقرر کردہ  اسباب ہیں،ان کی پناہ رب تعالٰی کی پناہ ہے۔مولانا جامی فرماتے ہیں۔شعر

یارسول اﷲ بدرگاہت پناہ آوردہ  ام                                  ہمچو کا ہے آمدم ہے گناہ آوردہ ام

الفصل الثانی

دوسری فصل

2464 -[8]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْأَرْبَعِ: مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ ". رَوَاهُ أحمدُ وَأَبُو دَاوُد وابنُ مَاجَه

2465 -[9] وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. وَالنَّسَائِيّ عَنْهُمَا

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے تھے الٰہی میں چار چیزوں سے تیری پناہ لیتا ہوں  ۱؎ اس علم سے جو نفع نہ دے ۲؎ اس دل سے جس میں عجز نہ ہو ۳؎ اس نفس سے جو سیر نہ ہو ۴؎ اس دعا سے جو سنی نہ جائے ۵؎(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ)اور ترمذی نے اسے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے روایت کیا اور نسائی نے ان دونوں صاحبوں سے۔

۱؎ ان چار کا  ذکر حصر کے لیے نہیں بلکہ اظہار اہمیت کے لیے ہے یعنی تمام نقصان دہ چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں،خصوصًا ان چاروں سے کہ ان کا نقصان بہت زیادہ ہے۔

۲؎ اس طرح کہ وہ علم ہی مضر ہو جیسے جادو  وغیرہ کا علم یا غیر مفید ہو جیسے غیرضروری علوم یا علم بذات خود تو مفید ہو مگر میں اس سے فائدہ نہ اٹھاؤں جیسے علم دین جو محض دنیا کمانے کے لیے سیکھا جائے لیکن اس پر عمل نہ کیاجائے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ علم باعمل کل ہمارا گواہ ہوگا اور علم بے عمل ہمارا  خلاف گواہ ۔خیال رہے کہ کوئی علم بذاتِ خود برا نہیں بلکہ نتیجہ اور نیت  کے  لحاظ سے برا  بن جاتا ہے،اگر کوئی علم بذات خود برا ہوتا تو پروردگار کو نہ ہوتا لہذا  اس دعا سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ حضور علیہ السلام کو بعض علوم نہ تھے۔سب سے بدتر چیزیں کفر اور جادو ہیں مگر علماء فرماتے ہیں کہ ان کا سیکھنا کبھی فرض ہے بچنے کے لیے۔

۳؎  عاجز  دل زرخیز  زمین کی طرح ہے جس میں پیداوار خوب ہوتی ہو اور سخت دل اس پتھر یلے علاقہ کی طرح ہے جس میں بکھیرا ہوا بیج بیکار جاتا ہے، رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَوَیۡلٌ لِّلْقٰسِیَۃِ قُلُوۡبُہُمۡ مِّنۡ ذِکْرِ اللہِ

۴؎ یعنی دنیا سے سیر نہ ہو جیسے استسقاء کی بیماری والا پانی سے سیر نہیں ہوتا،آخرت کی نیکیوں سے سیر نہ ہونا خدا کی رحمت ہے۔شعر

حاجتے نیست مرا سیرازیں آبِ حیات                          ضاعف اﷲ علی کل زمان عطشی

 



Total Pages: 445

Go To