Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب الاستعاذۃ

تعویذوں کا باب  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ یعنی ان دعاؤں کا باب جن میں اعوذ یا استعیذ آتا ہے عوذ کے معنی ہیں پناہ،استعاذہ کے معنی پناہ لینا،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَاِذَا قَرَاۡتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ"۔تلاوت قرآن کے وقت اعوذ پڑھنا سنت ہے ویسے بھی مصیبتوں اور عام حالات میں پناہ لینے کی دعا میں پڑھتے رہنا چاہیے،صبح سورۂ فلق و ناس پڑھنے سے آفات سے امن رہتی ہے۔

2457 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَسُوءِ القضاءِ وشَماتة الْأَعْدَاء»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اﷲ کی پناہ مانگو آفت کی مشقتوں سے  ۱؎ اور بدبختی کے پہنچنے سے اور برے فیصلے سے ۲؎ اور دشمنوں کے طعنوں سے ۳؎(مسلم، بخاری)

۱؎ آفتوں کی مشقت سے مراد وہ دنیاوی یا دینی مصیبتیں ہیں جن کے دفع پر انسان قادر نہ ہو حضرت عبداﷲ ابن عمر فرماتے ہیں کہ کثرت عیال و قلت مال جہد بلا ہے کہ اس سے انسان کبھی کفر میں مبتلا ہوجاتا ہے۔حدیث شریف میں ہے"کاد الفقر ان یکون کفرًا

۲؎ دوزخ کے کام کر بیٹھنا درک شقاء ہے اصل بدبختی دوزخ کا داخلہ ہے دوزخی عرض کریں گے"رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیۡنَا شِقْوَتُنَا"اور  دوزخ میں پہنچانے والے عقیدے یا اعمال اختیار کرلینا شقاء بدبختی کا پانا ہے۔اس سے اﷲ کی پناہ!بُرے فیصلہ سے مراد ہے کفر پر مرنے کا فیصلہ یعنی میرے مولا میں دوزخیوں کے کاموں سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی تیری پناہ لیتا ہوں کہ تو میری بدکاریوں کی وجہ سے میرے دوزخی ہونے کا فیصلہ کردے۔اس شرح سے یہ اعتراض اٹھ گیا کہ فیصلہ الٰہی تو پہلے ہوچکا اب اس سے پناہ مانگنے کے کیا معنی کیونکہ یہاں وہ فیصلہ مراد نہیں۔

۳ ؎یعنی مولٰی مجھے ایسی دینی و دنیاوی مصیبتوں میں نہ پھنسا جن سے میرے دشمن خوش ہوں اور مجھ پر طعنے کریں،آوازے کسیں،اس سے بھی تیری پناہ ،یہ دعا بہت جامع ہے۔

2458 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ»

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم یہ پڑھا کرتے تھے الٰہی میں تیری پناہ مانگتاہوں،رنج و غم سے عاجزی و سستی سے اور بزدلی و کنجوسی سے،قرض چڑھ جانے اور لوگوں کے غلبہ سے ۱؎  (مسلم،بخاری)۲؎

۱؎ ان الفاظ کی شرح اور رنج و غم کا فرق پہلے باب میں عرض کیا گیا۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ قرض کی فکر عقل خراب کردیتی ہے۔ حدیث شریف میں "اَلدَّیْن شَیْنُ الدِّیْن"قرض دین کا عیب ہے۔(مرقات) لوگوں سے مراد ظالم یا قرض خواہ ہیں۔یہ دعا بھی بہت جامع ہے کہ اس میں خارجی داخلی مصیبتوں اور جسمانی روحانی اذیتوں سے پناہ مانگ لی گئی ہے۔

۲؎ اس حدیث کو  ابوداؤد،ترمذی،نسائی نے بھی روایت کیا،حصن حصین شریف میں یہ حدیث صرف بخاری کی قرار  دی۔واﷲ اعلم!

 



Total Pages: 445

Go To