$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۳؎ یعنی میں تیرے ملک و تصرف میں ہوں۔ پیشانی بول کر ذات مراد لیتے ہیں یہ جملہ قرآن کریم کی اس آیت سے ماخوذ ہے"مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ اِلَّا ہُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِہَا

۴؎ یعنی میرے اختیاری اعمال اور غیر اختیاری حالات پر تیری قضا و قدر نافذ ہے اور جو کچھ تو  نے مجھ پر حکم نافذ فرمایا ہے وہ عین عدل و انصاف ہے۔خیال رہے کہ یہاں حکم سے مراد تکوینی حکم ہے نہ کہ تشریعی۔حکم و امر میں بڑا فرق ہے،دنیا میں سب کچھ رب تعالٰی کے حکم قضا و قدر سے ہورہا ہے اس کے امر سے نہیں ہورہا ہے۔سب کو ایمان لانے،نماز پڑھنے کا امر ہے مگر بہت لوگ نہ ایمان لاتے ہیں نہ نماز پڑھتے ہیں،نیز یہاں عدل سے مراد ظلم کا مقابل ہے نہ کے فضل کا یعنی تو ظلم سے پاک ہے۔

۵؎ اس عبارت سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ رب تعالٰی کے نام بہت ہیں صرف ۹۹ نہیں جن احادیث میں ۹۹ نام مذکور ہیں وہاں مقصد یہ ہے کہ جو ان ناموں کا وظیفہ پڑھے گا بخشا جائے گا،یہ مطلب نہیں کہ رب کے صرف اتنے ہی نام ہیں۔ دوسرے یہ کہ اسماء الہیہ تین قسم کے ہیں:بعض وہ جو آسمانی کتابوں میں مذکور ہوئے اور عام مؤمنین نے جان لیے اور بعض وہ جو صرف انبیائے کرام،فرشتوں یا بعض اولیاء کو الہامًا سکھائے گئے اور بعض جو درمکنون کی طرف پردۂ غیب میں رکھے گئے کسی کو نہ بتائے گئے۔تیسرے یہ کہ اسماء الہیہ کی برکت ان کے توسل سے دعامانگنا چاہیےخواہ ہم کو ان کا علم ہو یا نہ ہو،ا یسے اﷲ کے مقبول بندوں،نبیوں،ولیوں کی طفیل دعاء مانگنی چاہیے ہمیں ان کی تفصیل معلوم ہو یا نہ ہو۔

۶؎ یعنی جیسے موسم بہار زمین کی تمام خشکی بے رونقی دور کرکے اسے طرح طرح کی زینتوں سے آراستہ کردیتاہے ایسے ہی قرآن شریف کے ذریعے میرے دل کے رنج و غم،تاریکی سیاہی،گناہوں کی طرف میلان،حرص و ہوس،حسد  دور  فرما کر اس میں ایمان و عرفان،خوف خدا،عشق جناب مصطفےٰ کے پھل پھول لگادے۔اس سے معلوم ہوا کہ قرآن شریف مؤمن کے دل کی بہار ہے ایسے ہی صاحب قرآن صلی اللہ علیہ و سلم اس بہار کی جان ہیں۔

۷؎ اس طرح کہ رنج و غم کے بادل چھٹ جاتے ہیں اور دل میں خوشی و راحت کی بارشیں ہوتی ہیں۔

۸؎ اسے احمد ابن حبان حاکم ابو یعلے موصلی،بزاز،طبرانی،ابن ابی شیبہ نے بھی انہی ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت کیا۔

2453 -[38]

وَعَن جابرٍ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَعِدْنَا كَبَّرْنَا وَإِذَا نَزَلْنَا سبحنا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ جب ہم چڑھتے تو تکبیر کہتے اور جب اترتے تو تسبیح کہتے تھے ۱؎(بخاری)

۱؎  یعنی ہم سفر میں جب کسی  ٹیلے  پر  چڑھتے تھے تو اﷲ اکبر کہتے تھے کہ وہ رب کریم تمام اونچوں سے بڑا ہے اور جب نشیبی زمین پر اترتے تھے تو سبحان اﷲ کہتے تھے کہ رب تعالٰی نزول اور اترنے سے پاک ہے کہ اس میں کمی و نقصان کا شائبہ ہے۔اسے ابوداؤد، نسائی نے بھی روایت کیا۔

2454 -[39]

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَرَبَهُ أَمْرٌ يَقُولُ: «يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ

روایت ہے حضرت انس سے کہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو کوئی چیز غمگین کرتی تو  آپ فرماتے اے دائمی زندہ اے قائم رکھنے والے تیری رحمت سے مدد مانگتا ہوں ۱؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور محفوظ نہیں ۲؎

۱؎ یعنی تو حیّ و قیّوم ہے میری مدد کر،مجھے اس مصیبت سے نجات دے،تیرے سواء میرا کون ہے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ حیّ و قیّوم اسم اعظم ہے،قرآن کریم میں یہ نام صرف تین جگہ مذکور ہوئے۔

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html