Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۵؎ کہ دنیا  والوں کے پاس حاجت لے کر مجھے نہ جانا پڑے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے بے پرواہی تو سخت محرومی بلکہ کفر ہے، شیطان نبوت سے بے پرواہ ہوکر مارا گیا۔

۶؎    اسے حاکم نے بھی روایت کیا ،یہ دعا بہت مجرب ہے فقیر کا اس پر عمل ہے اور اس کا بہت فائدہ   فقیر زمارہا ہے۔

۷؎ یعنے مصابیح میں وہ حدیث یہاں تھی مگر میں نے مناسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے اس باب میں ذکر نہ کیا۔ان شاءاﷲ اس کی وجہ مناسبت وہاں ہی بیان کی جائے گی۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2450 -[35]

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَلَسَ مَجْلِسًا أَوْ صَلَّى تكلَّم بِكَلِمَاتٍ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْكَلِمَاتِ فَقَالَ: " إِنْ تُكُلِّمَ بِخَيْرٍ كَانَ طَابَعًا عَلَيْهِنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنْ تُكُلِّمَ بِشَرٍّ كَانَ كَفَّارَةً لَهُ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ". رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جب کسی جگہ بیٹھتے یا نماز پڑھتے تو کچھ کلمات کہتے ۱؎  میں نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے ان کلمات کے متعلق پوچھا تو فرمایا  اگر اچھی بات کی جائے ۲؎ تو ان پر روز قیامت مہر ہوجائے اور اگر بری بات کی گئی ہو تو اس کا کفارہ ہوجائیں ۳؎ الٰہی تو پاک ہے،تیری حمد ہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں،تجھ سے معافی مانگتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں ۴؎(نسائی)

۱؎  فارغ ہو کر بلکہ وہاں سے اٹھتے وقت یہ کلمات کہتے تھے۔(مرقات)

۲؎ یا تو  اَنْ الف کے زبر سے ہے اور تکلم ت و ك کے پیش سے یعنی ان کلمات کا بول لینا،پڑھ لینا یا  اِن الف کے کسرہ(زیر)سے اور تکلم ت اور ك کے زبر سے ہے یعنی اے عائشہ اگر تم یہ کلمات پڑھ لیا کرو،پہلے معنے زیادہ قوی ہیں۔

۳؎ یعنی جو دعائیہ کلمے میں پڑھا کرتا ہوں ان کی تاثیر یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اچھی باتیں کرکے یا کوئی عبادت کرکے یہ کلمات پڑھ لے تو یہ کلمات ان باتوں یا عبادتوں کے لیے مثل مہر کے ہوں گے کہ تا قیامت محفوظ رہیں گے اور حساب کے وقت وہ مقبول ہوں گے خود وہ کلمات بھی اور وہ عبادت یا دعا بھی جن پر یہ کلمات پڑھے گئے اور اگر کوئی بری باتیں بول کر یہ کلمات آخر میں کہہ لے تو یہ کلمات ان بری باتوں کا کفارہ بن جائیں  گے کہ ان کی برکت سے رب تعالٰی ان برائیوں پر پکڑ نہ فرمائے گا اس لیے ہم ہر مجلس کے آخر میں یہ کلمات پڑھ لیتے ہیں۔

۴؎ یہ ان کلمات کا بیان ہے جن کا فائدہ ابھی بیان ہوا۔ استغفار و توبہ کا فرق بیان ہوچکا ہے کہ گناہ سے معافی مانگنے کا نام استغفار ہےاور عیوب سے معافی مانگنے کا نام تو بہ،یا بڑے گناہوں سے معافی مانگنا استغفار ہے چھوٹے گناہوں سے معافی کا نام توبہ،یا  کھلے گناہوں سے معافی استغفار اور چھپے گناہوں سے معافی توبہ وغیرہ،یہ بہت جامع دعا ہے جس میں رب تعالٰی کی حمد و ثناء بھی ہے اور توبہ و استغفار بھی۔

2451 -[36]

وَعَن قَتَادَة: بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ: «هِلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ هِلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ هِلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ آمَنْتُ بِالَّذِي خَلَقَكَ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ يَقُولُ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ذَهَبَ بِشَهْرِ كَذَا وَجَاء بِشَهْر كَذَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضر ت قتادہ سے انہیں خبر پہنچی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جب چاند دیکھتے تو فرماتے بھلائی و ہدایت کا چاند ہو ۱؎ بھلائی اور ہدایت کا چاند ہو،بھلائی اور ہدایت کا چاند ہو تین بار فرماتے اس پر ایمان لایا جس نے تجھے پیدا کیا ۲؎ پھر فرماتے اس رب کا شکر ہے جو فلاں مہینہ لے گیا اور فلاں مہینہ لایا ۳؎(ابوداؤد)۴؎

 



Total Pages: 445

Go To