Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2427 -[12]

وَعَن عبد الله بن يسر قَالَ: نَزَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا وَوَطْبَةً فَأَكَلَ مِنْهَا ثُمَّ أُتِيَ بِتَمْرٍ فَكَانَ يَأْكُلُهُ وَيُلْقِي النَّوَى بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ وَيَجْمَعُ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى وَفِي رِوَايَةٍ: فَجَعَلَ يُلْقِي النَّوَى عَلَى ظَهْرِ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ثُمَّ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَهُ فَقَالَ أَبِي وَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ: ادْعُ اللَّهَ لَنَا فَقَالَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ واغفرْ لَهُم وارحمهم» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن بسر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے والد کے پاس تشریف لائے تو ہم نے آپ کی خدمت میں کھانا اور کھجور کا حلوہ پیش کیا ۱؎ اس سے حضور نے کچھ کھایا پھر چھوارے حاضر کیے گئے تو انہیں کھانے لگے اور گٹھلیاں دو انگلیوں کے بیچ لے کر پھینکنے لگے۲؎ کہ کلمہ کی اور بیچ کی انگلی جمع فرماتے اور ایک روایت میں ہے کہ گٹھلیاں اپنی کلمہ کی اور بیچ کی انگلی کی پشت پر ڈالنے لگے پھر پانی لایا گیا حضور نے پیا پھر میرے والد نے آپ کے گھوڑے کی لگام پکڑ کر عرض کیا حضور ہمارے حق میں اﷲ سے دعا فرمایئے ۳؎ تو فرمایا الٰہی جو تو انہیں روزی دے اس میں بر کت دے اور انہیں بخش ان پر رحم کر ۴؎ (مسلم)

۱؎ مشکوۃ کے بعض نسخوں میں رَطْبَۃً ہے  ر کے ساتھ،بعض نسخوں میں وَطِیْئَۃً ہے بمعنی ملی ہوئی کھجوریں جس میں مکھن ملا ہو اور بعض میں وَطْبَۃً ہے یعنی گٹھلی نکالی ہوئی کھجوریں جنہیں گھی یا پنیر یا مکھن سے کھایا جائے یہی زیادہ مشہور ہے۔بعض لوگوں نے کہا کہ وطبہ کھجور کے شربت کو کہتے ہیں مگر پہلی بات زیادہ قوی ہے یعنی ہم نے آپ کی خدمت میں تین چیزیں پیش کیں: کھانا،کھجور کا حلو ا  اور چھوارے۔معلوم ہوا کہ مہمان کی خدمت کے لیے کھانے میں قدرے تکلف کرنا سنت ہے۔

۲؎ یعنی چھوارے کھا کر اس کی گٹھلیاں اس انداز سے پھینکتے تھے کہ کلمہ اور بیچ کی انگلی ملا کر ان کی پشت پر لیتے اور پھینک دیتے۔معلوم ہوا کہ صحابہ کرام حضور علیہ السلام کی اداؤں کو بھی یاد رکھتے اوران کی روایت کرتے تھے۔

۳؎ یعنی میرے والد حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو پہنچانے کے لیے لگام شریف پکڑ کر آگے چلے اور جب کچھ دور پہنچا کر لوٹنے لگےتو دعا کے لیے عرض کیا۔معلوم ہوا کہ بزرگوں کی لگام یا ر کاب پکڑنا اظہار عجز کے لیے سنت صحابہ ہے اور مہمان کو وداع کے وقت کچھ دور پہنچانے جانا بھی سنت ہے۔خیال رہے کہ ان صحابی نے کھانا کھلاتے ہی اس دعا کی درخواست نہ کی تاکہ یہ دعا اس خدمت کا معاوضہ نہ بن جائے اور اخلاص میں فرق نہ آجائے۔فقہاء فرماتے ہیں کہ مہمان کو کھانا کھلا کر دعا  نہ کراؤ اور فقیر کو صدقہ دے کر  دعا  نہ کراؤ،وہ خود  دعا کریں تو ان کی مہربانی۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بزر گوں سے دعا کرانا سنت صحابہ ہے اگر چہ یہ خود بھی بزرگ ہوں،حضرات صحابہ کرام اولیاء کے اولیاء ہیں مگر حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے دعا کرتے ہیں۔

۴؎ بہت جامع دعا ہے۔روزی میں جسمانی روحانی تمام روزیاں داخل ہیں،مغفرت سے گناہوں کی بخشش اور رحم سے خیر کی توفیق اور اس کی قبولیت مراد ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2428 -[13]

عَن طلحةَ بنِ عبيدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

ر وایت ہے حضرت طلحہ ابن عبید اﷲ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جب چاند دیکھتے ۱؎ تو کہتے اے اﷲ اسے ہم پر امن و امان،سلامتی اورا سلام کا چاند بنا کر چمکا ۲؎  اے چاند میرا  اور تیرا رب  اللہ ہے ۳؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔

 



Total Pages: 445

Go To