$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۴؎ یعنی اگرچہ عاص میرا باپ تھا مگر کافر بھی تھا اس لیے اس کی وصیت حضور انور سے پوچھ کر پوری کروں گا،یہ اجتہاد سے تھا مگر پہلے اجتہاد سے اعلٰی یا تو آپ نے اپنے بھائی ہشام سے یہ فرمایا یا دل میں سوچا۔

۵؎  اس سوال سے معلوم ہوا کہ نیکی بھی بزرگوں کے مشورہ اور ان کی اجازت سے کرنا چاہیے،دیکھو غلام آزاد کرنا بہرحال ثواب تھا اگر عاص کو اس کا ثواب نہ بھی ملے تب بھی خود حضرت عمرو ابن عاص کو تو ثواب ملنا ہی تھا مگر پھر بھی حضور انور سے اجازت مانگ کر آزاد کرنا چاہتے ہیں۔صوفیاء کے نزدیک ورد،وظیفے شیخ کی اجازت سے کیے جاتے ہیں کہ اجازت کی برکت سے ان میں الفاظ کی تاثیر کے ساتھ زبان کی تاثیر بھی جمع ہوجاتی ہے،گولی بارود کی مدد سے مار کرتی ہے،تلوار کی دھار بغیر درست وار کے نہیں کاٹتی۔

۶؎  مگر چونکہ عاص کافر ہوکر مرا اس لیے اسے تمہاری کسی نیکی کا ثواب نہیں پہنچ سکتا،نہ وہ عذاب الٰہی سے بچ سکتاہے۔ اس فرمان عالی سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ کافر کو ثواب بخشنا منع ہے کہ حضور انور نے اس کی اجازت نہ دی۔دوسرے یہ کہ اگر اسے ایصال ثواب کیا بھی جائے تو ثواب پہنچتا نہیں،جب اسے اپنی نیکیوں کا ثواب نہیں ملتا تو دوسرے کی نیکیوں کا بخشا ہوا ثواب کیسے ملے گا۔مردہ کو کوئی دوا فائدہ نہیں پہنچاتی،کافر کو کوئی دعا عذاب سے نہیں بچاتی۔تیسرے یہ کہ مسلمانوں کو ہرقسم کی عبادات کا ثواب بخشنا جائز ہے اور انہیں پہنچتا بھی ہے،دیکھو غلام آزاد کرنا، صدقہ و خیرات،حج مختلف قسم کی عبادتیں ہیں مگر سب کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فیصلہ فرمایا کہ اگر وہ مسلمان ہوتا تو ثواب پہنچ جاتا۔خیال رہے کہ کافر کو بعض نیکیوں کی بدولت عذاب ہلکا ہوجاتا ہے مگر عذاب سے رہائی نہیں ہوتی نہ وہ جنت کی کسی نعمت کا مستحق ہوتا ہے، دیکھو حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے باعث ابو طالب کا عذاب ہلکا ہے، ولادت پاک کی خوشی منانے کے سبب ابولہب کو سوموار کے دن عذاب میں تخفیف ہوتی ہے ۔(بخاری شریف)لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں۔آج بعض لوگ ایصال ثواب کے انکاری ہیں وہ ان احادیث میں غور کریں۔

3078 -[9]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَطَعَ مِيرَاثَ وَارِثِهِ قَطَعَ اللَّهُ مِيرَاثَهُ مِنَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ

3079 -[10] وَرَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَة رَضِي الله عَنهُ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو اپنے وارث کو اس کی میراث سے محروم کرے  ۱؎  تو اﷲ اس کو قیامت کے دن جنت کی میراث سے محروم کردے گا۲؎ (ابن ماجہ)

اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا۔

۱؎ اپنے وارث کو میراث سے محروم کرنے کی بہت صورتیں ہیں:کسی کو وصیت کرنا تاکہ ورثہ کا حصہ کم ہوجائے،کسی کے لیے قرض کا جھوٹا اقرار کرلینا تاکہ وارث کے حصے کم ہوں، بیوی کو طلاق دے دینا تاکہ وہ وارث نہ ہوسکے،اپنا کل مال کسی کو دے جانا تاکہ وارثوں کو کچھ نہ ملے، کسی وارث کو قتل کرا دینا تاکہ میراث نہ پاسکے یا اپنے بچہ کا انکار کردینا کہ یہ بچہ میرا ہے ہی نہیں تاکہ میراث نہ پاسکے، اپنی زندگی میں سارا مال برباد کردینا تاکہ وارثوں کے لیے کچھ نہ بچے وغیرہ،بعض اپنے کسی بیٹے کو عاق کر دیتے ہیں یا کہہ دیتے ہیں کہ ہماری میراث سے اسے کچھ نہ دیا جائے یہ محض بے کار ہے اس سے وہ وارث محروم نہ ہوگا۔ میراث سے محروم کرنے والی چیز مسلمان کے لیے صرف تین ہیں: غلام ہونا،قتل،اختلاف دین،ان کے سوا کسی اور وجہ سے محرومی نہیں ہو سکتی۔

۲؎ جو چیز بغیر عقد اور بغیر مشقت کے ملے اسے میراث کہہ دیتے ہیں،یہاں یہ ہی مراد ہے۔نیز ہر جنتی جنت میں اپنا حصہ بھی لے گا اور کافر کے جنتی حصہ پر قبضہ کرلے گا،اس لحاظ سے بھی اسے میراث کہہ دیتے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ رب تعالٰی ایسے ظالم کو جنت سے



Total Pages: 445

Go To
$footer_html