Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

نیت عمل سے افضل ہے،دیکھو بیوی کے منہ میں لقمہ دینا خوشی و محبت کے وقت ہوتا ہے جس میں عبادت کا احتمال بھی نہیں مگر اس پر بھی رب کا وعدہ ہے اپنے وارثوں سے عدل و انصاف کرناضروری ہے۔(مرقات)

الفصل الثانی

دوسری فصل

3072 -[3]

عَن سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ فَقَالَ: «أَوْصَيْتَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: «بِكَمْ؟» قُلْتُ: بِمَالِي كُلِّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. قَالَ: «فَمَا تَرَكْتَ لِوَلَدِكَ؟» قُلْتُ: هُمْ أَغْنِيَاءُ بِخَيْرٍ. فَقَالَ: «أوص بالعشر» فَمَا زَالَت أُنَاقِصُهُ حَتَّى قَالَ: «أَوْصِ بِالثُّلُثِ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے میری بیمار پرسی فرمائی جب کہ میں بیمار تھا،فرمایا تم نے کچھ وصیت کردی ہے میں نے عرض کیا ہاں فرمایا کتنے کی ۱؎ میں نے عرض کیا اپنے سارے مال کی اﷲ کی راہ میں ۲؎ فرمایا تو نے اپنے اولاد کے لیے کیا چھوڑا میں نے عرض کیا وہ بہت مال سے غنی ہیں۳؎ تب فرمایا دسویں حصہ کی وصیت کرو ۴؎ میں کم کراتا رہا ۵؎ حتّٰی کہ فرمایا تہائی کی وصیت کرو اور تہائی بھی بہت ہے ۶؎(ترمذی)

۱؎ معلوم ہوتا ہے کہ مرض سخت تھا اس لیے ان سے وصیت کا سوال کیا گیا۔خیال رہے کہ حضور انور کو خبرتھی کہ حضرت سعد کی وفات اس مرض میں نہیں ہے جیساکہ دیگر روایات میں آتا ہے کہ آپ نے فرمایا تم ابھی جیو گے اور تم سے کچھ نفع پائیں گے کچھ نقصان۔

۲؎ اﷲ کی راہ سے مراد سارے کار خیر ہیں،فقراء مساکین پر خرچ،مسجد،مسافر خانہ کی تعمیر وغیرہ وغیرہ۔

۳؎ ولد سے مراد بیٹی ہے کہ آپ کے صرف ایک بیٹی ہی تھی،ولد مطلقًا اولاد پر بولا جاتا ہے بیٹا ہو یا بیٹی مگر ابن صرف بیٹے کو کہتے ہیں۔ آپ کا ھم اغنیاء فرمانا عصبہ وارثوں کو شامل کرکے ہے اور اغنیاء فرمانا تغلیبًا ہے کہ بعض ان میں غنی تھے اور بعض فقراء جیساکہ گزشتہ حدیث سے معلوم ہوچکا ہے ۔

۴؎  اس سے پتہ لگا کہ تہائی سے زیادہ کی وصیت جاری نہ ہوگی،دیکھو حضرت سعد نے کل مال کی وصیت کردی مگر جاری نہ ہوئی۔امام اعظم و اسحاق و احمد فرماتے ہیں کہ جس کا کوئی وارث نہ ہو وہ کل مال کی وصیت کرسکتا ہے اور اس کی وصیت جاری بھی ہوگی کیونکہ اس کل وصیت کا جاری نہ ہونا وارثوں کے حق کی وجہ سے ہے جب وہ موجود ہی نہیں تو اب مانع کیا چیزہے۔

۵؎ مشکوٰۃ شریف کے بعد نسخوں میں اناقضہٗ نقطہ والی ضاد سے ہے بمعنی جوابًا عرض کرتا رہا مگر عام نسخوں میں اناقضہٗ صاد مہملہ سے ہے،معنی یہ ہے کہ میں اس وصیت کو کم سمجھتا رہا اور زیادہ وصیت کی اجازت چاہتا رہا۔ (مرقات)یا یہ معنی ہیں کہ میراث کو کم کراتا رہا،میراث کم ہوگی تو وصیت زیادہ ہوگی۔

۶؎ یعنی تمہاری پہلی وصیت تو بالکل باطل ہوچکی ہے،اب نئے سرے سے وصیت کرو جو تہائی سے زیادہ نہ ہو یا یہ مطلب ہے کہ اپنی پہلی وصیت کو خود باطل کردو اور اب نئی وصیت کرو۔خیال رہے کہ وصیت کرنے والا اپنی وصیت باطل بھی کرسکتا ہے،اس میں ترمیم بھی کرسکتا ہے کیونکہ وصیت ایک قسم کا ہبہ ہے اور ہبہ میں تبدیلی یا فسخ قبل از قبضہ جائز ہے۔

3073 -[4]

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «إِنِ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَزَادَ التِّرْمِذِيُّ: «الْوَلَدُ لِلْفَرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ»

3074 -[5]

وَيُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْوَرَثَةُ» مُنْقَطِعٌ هَذَا لَفْظُ الْمَصَابِيحِ. وَفِي رِوَايَةِ الدَّارَقُطْنِيِّ: قَالَ: «لَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ إِلَّا أَنْ يَشَاء الْوَرَثَة»

روایت حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے خطبہ میں حجتہ الوداع کے سال فرماتے سنا ۱؎ کہ اﷲ نے ہر حقدار کو اس کا حق دیا ہے لہذا وارث کے لیے وصیت نہیں ۲؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ)اور ترمذی نے یہ بڑھایا کہ بچہ بستر والے کا ہے اور زنانی کے لیے پتھر ہیں ۳؎ ان کا حساب اﷲ کا ذمہ ہے ۴؎

اور حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے یوں راوی کہ فرمایا وارث کے لیے وصیت نہیں مگر یہ کہ وارث راضی ہوں یہ منقطع ہے ۵؎ یہ مصابیح کے الفاظ ہیں اور دار قطنی کی روایت میں ہے کہ فرمایا وارث کے لیے وصیت جائز نہیں مگر جب کہ وارث راضی ہوں۶؎

 



Total Pages: 445

Go To