$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

3071 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: مَرِضْتُ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أَشْفَيْتُ عَلَى الْمَوْتِ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَتِي أَفَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟ قَالَ: «لَا» قُلْتُ: فَثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ: «لَا» قُلْتُ: فَالشَّطْرِ؟ قَالَ: «لَا» قُلْتُ: فَالثُّلُثِ؟ قَالَ: «الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ إِنْ تَذَرْ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ»

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں میں فتح کے سال ایسا بیمار ہوا کہ موت کے قریب ہوگیا، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم بیمار پرسی کرنے تشریف لائے ۱؎ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ میرے پاس مال بہت ہے اور سوا میری بیٹی کے میرا وارث کوئی نہیں ۲؎ تو کیا میں اپنے کل مال کی وصیت کرجاؤں ۳؎ فرمایا نہیں میں نے عرض کیا دو تہائی مال کی فرمایا نہیں میں نے عرض کیا تو آدھے کی فرمایا نہیں میں نے عرض کیا تہائی کی فرمایا تہائی کی کرو اور تہائی بھی زیادہ ہے ۴؎ اگر تم اپنے وارثوں کو غنی بنا کر چھوڑو تو اس سے اچھا ہے کہ تم انہیں فقیر کرکے جاؤ ۵؎ کہ لوگوں سے مانگتے پھریں ۶؎  اور تم کوئی خرچہ ایسا نہ کرو گے جس سے اﷲ کی رضا چاہو مگر تمہیں اس پر ثواب دیا جائے گا حتی کہ وہ نوالہ جسے تم اپنی بیوی کے منہ میں دو۷؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم ہر بیمار کی مزاج پرسی فرماتے تھے،اس سلسلہ میں آپ کے پاس بھی تشریف لے گئے۔ اَشْفَیْتُ شِفَاءٌ سے بنا بمعنی کنارہ،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَکُنۡتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ"۔اس کا استعمال اکثر مصیبت و تکلیف کے موقعہ پر ہوتا ہے ۔ اَشْفَیْتُ کے معنی ہوئے میں کنارۂ موت پر پہنچ گیا۔

۲؎ یہاں وارث سے مراد ذی فرض وارث ہے یعنی سوائے میری بیٹی کے اور کوئی ذی فرض وارث نہیں عصبہ وارث بہت ہیں۔بعض شارحین نے فرمایا کہ وارث سے مراد کمزور وارث ہیں جن کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو کیونکہ آپ کے ذی فرض وارث بھی کئی تھے۔ (مرقات و اشعہ)

۳؎ کہ سارا مال فقراء و مساکین میں تقسیم کردیاجائے یا کسی کار خیر میں لگادیا جائے بیٹی وغیرہ کسی وارث کو کچھ نہ ملے کیونکہ یہ سب اﷲ کے حکم سے غنی ہیں۔

۴؎  پہلا اَلثُّلُثُ یا منصوب ہے یا مرفوع کہ وہ یا فاعل ہے یا مبتداء جس کا فعل یا خبر محذوف ہے یا مفعول ہے اور دوسرا اَلثُّلُثُ مرفوع ہی ہے کہ وہ مبتداء ہے جس کی خبر کثیر۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مرنے والا مرتے وقت صرف تہائی کی وصیت کرسکتا ہے زیادہ کی نہیں اور اگر زیادہ کی کر بھی گیا تو جاری نہ ہوگی،یہ بھی معلوم ہواکہ تہائی سے بھی کم کی وصیت کرنا بہتر ہے کہ حضور انور نے تہائی کو بھی زیادہ فرمایا۔

۵؎ اس سے بھی معلوم ہورہا ہے کہ حضرت سعد کے بہت وارث تھے ذی فرض صرف بیٹی تھی اور بعض وارث فقراءبھی تھے مالدار نہ تھے،یہ بھی معلوم ہورہا ہے کہ اپنے عزیزوں سے سلوک کرنا غیروں سے سلوک کرنے سے افضل ہے کہ وصیت میں غیروں سے سلوک ہے میراث میں اپنوں سے سلوک۔خیال رہے کہ اِن تذر میں اِنْ شرطیہ ہے اور خبر سے پہلے فھو پوشیدہ ہے،خیر اس فھو کی خبرہے۔

۶؎  اس سے معلوم ہورہا ہے کہ اپنی موت کے بعد وارثین کا بھیک مانگتے پھرنا اپنی ذلت کا باعث ہے اور قبر میں روحانی تکلیف کا بھی ذریعہ۔

۷؎ یعنی تم وصیت کیوں کرتے ہو حصول ثواب کے لیے اور میراث جو وارثوں کو پہنچے گی اگر اس میں تم رضائے الٰہی کی نیت کرلو کہ اپنے عزیزوں کو اپنا مال پہنچنا رب تعالٰی کی رضا کا ذریعہ ہے تب بھی تم کو ثواب ملے گا بلکہ زیادہ ملے گا،لہذا وصیت تہائی سے بھی کم کی کرو۔اس حدیث سے بہت مسائل معلوم ہوئے:مال جمع کرنا درست ہے اور مرتے وقت تک اسے پاس رکھنا مباح،تہائی مال سے زیادہ کی وصیت نافذ نہیں ہوتی،اﷲ کی راہ میں خرچ کرنا باعث ثواب ہے۔جب مباح میں نیت خیر کرلی جائے تو مستحب بن جاتا ہے،مؤمن کی



Total Pages: 445

Go To
$footer_html