Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب الوصایا

وصیتوں کا باب  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  وصایا وصیت کی جمع ہے جیسے خطایا خطیت کی،لغت میں وصیت کے معنی ہیں عہد،مگر اصطلاح میں اس وعدہ اور عہد کو وصیت کہا جاتا ہے جس کا تعلق موت کے بعد سے ہو.شروع اسلام میں مالدار پر وصیت کرنا فرض تھا کہ اس زمانہ میں وصیت سے ہی متروکہ مال تقسیم ہوتا تھا،لیکن میراث کے احکام آنے پر یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ استحباب اب بھی باقی ہے ۔یہ خیال رہے کہ وارث کو وصیت جائز نہیں جسے میراث سے ایک پائی ملے گی اس کے لیے وصیت نہیں ہوسکتی،اگر کی گئی ہے تو معتبر نہیں۔قرآن شریف میں تاکیدی حکموں کو بھی وصیت فرمایا گیا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَقَدْ وَصَّیۡنَا الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ"اور فرماتاہے:"وَوَصّٰی بِہَاۤ اِبْرٰہٖمُ بَنِیۡہِ

3070 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصَى فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّة مَكْتُوبَة عِنْده»

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جس مسلمان کے پاس کوئی چیز لائق وصیت ہو ۱؎ اسے یہ مناسب نہیں کہ دو راتیں بھی اس کے بغیر گزارے کہ اس کے پاس اس کی وصیت لکھی ہو ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎  یوصی معروف بھی ہوسکتا ہے مجہول بھی،شیخ نے مجہول پڑھا ہے اور مرقات نے دونوں طرح لائق وصیت کی قید اس لیے لگائی کہ جس مال کی وصیت ہی نہیں ہوسکتی اس کا حکم یہ نہیں،قابل میراث مال کی وصیت ہوسکتی ہےدوسرے کی نہیں،قرض،امانت،وقف مالوں میں میراث جاری نہیں ہوتی لہذا ان کی وصیت بھی نہیں ہوتی،نبی کا مال قابل میراث نہیں تو قابل وصیت بھی نہیں۔جو لوگ حضرت علی کو وصی رسول مانتے ہیں بایں معنی کہ حضور انور نے آپ کو اپنے مال یا خلافت کی وصیت فرمائی وہ بہت ہی نادان ہیں،ہر مسلمان وصی رسول ہے،سرکار نے ہر شخص کو تقویٰ اور پرہیزگاری کی وصیت فرمائی ہے کہ فرمایا:"اُوْصِیْکُمْ بِتَقْوَی اﷲِ

۲؎  اگر یہ حکم وجوبی ہے تو منسوخ ہے کہ اب میراث کے احکام آچکے اور اگر استحبابی ہے تو اب بھی باقی ہے،واقعی جو وصیت کرنا چاہے وہ بغیر وصیت کیے ایک رات بھی نہ گزارے،کیا خبر موت کہاں اور کب آئے،نیز وصیت لکھ کر کرے بلکہ آج کل رجسٹری کرادے کہ زبانی وصیتیں بدل جاتی ہیں،ہاں ادائے قرض اور ادائے امانات کی وصیت اب بھی واجب ہے جب کہ ان قرضوں اور امانتوں کی کسی کو خبر نہ ہو۔

3071 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: مَرِضْتُ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أَشْفَيْتُ عَلَى الْمَوْتِ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَتِي أَفَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟ قَالَ: «لَا» قُلْتُ: فَثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ: «لَا» قُلْتُ: فَالشَّطْرِ؟ قَالَ: «لَا» قُلْتُ: فَالثُّلُثِ؟ قَالَ: «الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ إِنْ تَذَرْ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ»

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں میں فتح کے سال ایسا بیمار ہوا کہ موت کے قریب ہوگیا، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم بیمار پرسی کرنے تشریف لائے ۱؎ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ میرے پاس مال بہت ہے اور سوا میری بیٹی کے میرا وارث کوئی نہیں ۲؎ تو کیا میں اپنے کل مال کی وصیت کرجاؤں ۳؎ فرمایا نہیں میں نے عرض کیا دو تہائی مال کی فرمایا نہیں میں نے عرض کیا تو آدھے کی فرمایا نہیں میں نے عرض کیا تہائی کی فرمایا تہائی کی کرو اور تہائی بھی زیادہ ہے ۴؎ اگر تم اپنے وارثوں کو غنی بنا کر چھوڑو تو اس سے اچھا ہے کہ تم انہیں فقیر کرکے جاؤ ۵؎ کہ لوگوں سے مانگتے پھریں ۶؎  اور تم کوئی خرچہ ایسا نہ کرو گے جس سے اﷲ کی رضا چاہو مگر تمہیں اس پر ثواب دیا جائے گا حتی کہ وہ نوالہ جسے تم اپنی بیوی کے منہ میں دو۷؎ (مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 445

Go To