$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

رحمت عامہ تمام جہاں پر ہے،اس لحاظ سے فرمایا کیا رحمۃ للعالمین اور رحمت خاصہ صرف مسلمانوں پر ہے اس لحاظ سے ارشاد ہوا "بِالْمُؤْمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ

3042 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذكر»

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ مقرر شدہ میراثی حصے ان کے حقداروں کو دو پھرجو بچ رہے وہ قریب ترین مرد کو دو ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی تقسیم میراث میں پہلے تو ذی فرض وارثوں کو ان کے مقررکردہ حصے دو،یہ حضرات کل بارہ ہیں:چار مرد،آٹھ عورتیں،ان کے حصوں سے جو باقی بچے وہ عصبہ بنفسہ کو دو خواہ بالغ ہوں یا نابالغ۔عصبہ بنفسہ وہ مرد ہے جس کا رشتہ میت سے بغیر عورت کے واسطے کے ہوں جیسے بیٹا،باپ،بھائی وغیرہ۔تمام مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ میراث اوّلًا  ذی فرض کو دی جائے،ان سے بچے تو عصبات میں تقسیم ہو،اولٰی بمعنی اقرب ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ قریبی وارث کے ہوتے ہوئے دور والے وارث کو میراث نہ ملے گی لہذا باپ کے ہوتے دادا محروم ہے،بیٹے کے ہوتے پوتا محروم،بھائی کے ہوتے بھتیجہ محروم،چچا کے ہوتے چچا زاد اولاد محروم،یہ شریعت کا قاعدہ کلیہ ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"مِمَّا تَرَکَ الْوٰلِدَانِ وَالۡاَقْرَبُوۡنَ"۔اس کے مال سے حصے بانٹو جو ماں باپ یا قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہے۔ اقربون اسم تفضیل ہے۔معلوم ہوا کہ قریبی کے ہوتے بعید کا رشتہ دار محروم ہے،آج بعض جہلانے یہ شوشہ چھوڑا ہے کہ بیٹے کے ہوتے پوتے کو بھی میراث دو مگر وہ یہ نہیں کہتے کہ باپ کے ہوتے دادا وارث ہو،بیٹی کے ہوتے یتیم نواسہ وارث ہو اور بھائی چچا کے ہوتے ان کی یتیم اولادبھی وارث ہو،یہ حضرات کہتے ہیں کہ مِمَّا تَرَکَ الْوٰلِدَانِ میں ماں باپ دادا دادی سب شامل ہیں مگر تعجب ہے کہ نانا،نانی کو اس میں شامل نہیں کرتے،غرضکہ مسئلہ آج تک کسی زمانہ میں کسی مسلمان نے نہ کہا،اب چودہ سو برس کے بعد ان کو سوجھا۔

3043 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ»

روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہ مسلمان کافر کا وارث نہ کافر مسلمان کا ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی کفرو اسلام کا فرق میراث سے مانع ہے لہذا مؤمن باپ کی میراث کافر بیٹا نہ پائے گا اور کافر بیٹے کی میراث سے مؤمن باپ کو کچھ نہ ملے گا مگر کفر ایک ہی ملت ہے لہذا یہودی باپ کی میراث عیسائی بیٹے کو مل جائے گی۔سعید ابن مسیب،امیر معاویہ،معاذ بن جبل وغیرہم فرماتے ہیں کہ مؤمن وارث تو کافر کی میراث حاصل کرے گا مگر کافر وارث مؤمن کی میراث نہ پائے گا،الاسلام یعلو ولا یعلٰی مگر جمہور صحابہ و فقہاء کا قول ہے جو ہم نے عرض کیا کہ دو طرفہ میراث نہ ملے گی،مرتد کسی کا وارث نہیں،ہمارے ہاں زمانہ ارتداد کی کمائی بیت المال کی ہے اور زمانہ اسلام کی کمائی وارثوں کی،امام شافعی کے ہاں مرتد کسی کا وارث نہیں۔

3044 -[4]

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا قوم کا آزاد کردہ غلام ان ہی سے ہے ۱؎ (بخاری)

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html