$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

خود استعمال کرے ورنہ خیرات کردے لیکن اگر بعد میں مالک مل گیا تو اسے چیز کی قیمت دینا ہوگی۔بعض کے نزدیک غنی بھی استعمال کرسکتا ہے۔

۵؎ یعنی گمی بکری ضرور پکڑلو ورنہ بھیڑیا کھائے گا نہ تمہیں ملے گی نہ مالک کو۔

۶؎  خلاصہ یہ ہے گم شدہ اونٹ نہ پکڑو کہ اس کے ضائع ہونے کا خطرہ نہیں،پانی کا تھیلہ اس کے پیٹ میں ہے۔پاؤں اس کے مضبوط ہیں، درندے سے بھاگ کر جان بچاسکتا ہے،لمبا سفر طے کرسکتا ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ جنگل میں گمے ہوئے اونٹ کو نہ پکڑے لیکن بستی میں گمے ہوئے کوپکڑے کہ وہاں اسے لوگ چرالیں گے اور اب تو جنگل و بستی میں جہاں بھی چوری کا خطرہ ہو پکڑے،یہ حکم عرب کے لیے تھا جہاں چوری بالکل ختم ہوچکی تھی۔(ازمرقات)

۷؎ بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں ثم محض عطف کے لیے ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"ثُمَّ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ"لہذا دو سال تک مشہور کرنا ضروری ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ ثم اعرف الخ پہلے جملہ عَرِّفْھَا سَنۃً کا بیان ہے اور بعض شارحین فرماتے ہیں کہ ثُمَّ ترتیب کے لیے ہے۔لقطہ پانے والے کو مناسب یہ ہے کہ پہلے ایک سال تک مشہور کرے،پھر جب اپنے استعمال میں لانے لگے پھر اعلان کرے،یہاں بیان استحباب کے لیے ہے۔

۸؎  خرچ کرنے کا حکم اباحت کے لیے ہے اور فادّھا وجوب کے لیے یعنی ایک سال گزرنے پرتمہیں لقطہ خود خرچ کرلینا جائز ہے،پھر اگر خرچ کرلینے کے بعد مالک لے تو اس کی مثل یا قیمت مالک کو ادا کرنا ضروری ہے اور اگر خیرات کردیا پھر بعد کو مالک آیا تو اسے اختیار ہے جو لقطہ پانے والے سے قیمت لے یا فقیر سے جسے خیرات دی گئی۔ (مرقات)

3034 -[2]

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ آوَى ضَالَّةً فَهُوَ ضَالٌّ مَا لم يعرفهَا» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو گمی چیز کو اپنے پاس جگہ دے ۱؎ وہ گمراہ ہے جب تک کہ اس کا اعلان نہ کرے ۲؎(مسلم)

۱؎  غالب یہ ہے کہ گمی چیز سے مراد گما ہوا جانور ہے کیونکہ ضال اکثر جاندار گمے ہوئے کو کہا جاتا ہے اور لقطہ عام ہے،جان دار بیجان گمشدہ سب کو لقطہ کہتے ہیں مگر اکثر بے جان چیز پر بولا جاتاہے۔(مرقات)

۲؎ یعنی جو گمشدہ چیز اٹھاکر اعلان نہ کرے وہ بدنیت اور خائن ہے بہتر ہے کہ اٹھاتے وقت ہی اعلان کردے کہ میں یہ چیز مالک تک پہنچانے کے لیے اٹھا رہا ہوں،پھر چیز کا اعلان شروع کرے کہ اس میں اپنے کو تہمت سے بچانا ہے۔

3035 -[3]

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيَمِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَن لقطَة الْحَاج. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن عثمان تیمی سے ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے حاجیوں کے لقطہ سے منع فرمایا ۲؎(مسلم)

۱؎ آپ حضرت طلحہ ابن عبید اﷲ کے بھتیجے ہیں،صحابی ہیں اور عبداﷲ ابن زبیر کے ساتھ ایمان لائے مگر آپ نے براہ راست حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے کوئی روایت نہ کی لہذا یہ حدیث مرسل صحابی ہے کہ کسی سننے والے صحابی کا نام رہ گیا ہے۔خیال رہے کہ مرسل صحابی تمام کے نزدیک حجت ہے،غیر صحابی کے مرسل میں اختلاف ہے،ہمارے احناف کے ہاں مقبول ہے امام شافعی کے ہاں غیر مقبول۔(مرقات)

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html