Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب اللقطۃ

پائی ہوئی چیز کا باب   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎   لقط اور التقاط پڑی چیز کا اٹھالینا اور لقطہ لام کے پیش قاف کے سکون سے پڑی ہوئی چیز اٹھائی جائے،بعض نے فرمایا لُقَطَہ لام کے پیش قاف کے فتح سے اٹھانے والے لوگ،جیسےھمزہ اور لمزہ،جمع ھا مزاور لامز کی ایسے ہی لقطہ جمع لاقط کی۔

3033 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ: «اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنُكَ بِهَا» . قَالَ: فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ: «هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ» قَالَ: فَضَالَّةُ الْإِبِل؟ قَالَ: «مَالك وَلَهَا؟ مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: فَقَالَ: «عَرِّفْهَا سَنَةً ثُمَّ اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ اسْتَنْفِقَ بِهَا فَإِنْ جَاءَ رَبهَا فأدها إِلَيْهِ»

روایت ہے حضرت زید ابن خالد سے ۱؎ فرماتے ہیں ایک شخص رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ سے لقطہ کے بارے میں پوچھا فرمایا اس کے برتن اس کے بندھن کا اعلان کرو ۲؎ پھر ایک سال تک مشہور کرتے رہو۳؎ پھر اگر اس کا مالک آجائے فبہا ورنہ تم اس سے نفع لو عرض کیا۴؎ گمی ہوئی بکری فرمایا وہ یا تیری ہے یا تیرے بھائی کی یا بھیڑیے کی ۵؎ عرض کیا گما ہوا اونٹ فرمایا تمہیں اس سے کیا اس کے ساتھ اس کی مشک اس کا بچاؤ ہےپانی پر جائے گا درخت کھائے گا حتی کہ اسے مالک پالے گا ۶؎(بخاری)مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ فرمایا اسے مشہور کرو ایک سال پھر اس کا بندھن اس کا برتن مشہور کرو پھر اس کو خود خرچ کرلو ۷؎ پھر اگر اس کا مالک آئے تو اسے ادا کردو ۸؎

۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،پچھتر۷۵سال عمر پائی،  ۷۸ھ؁  میں کوفہ میں وفات پائی،امیر معاویہ یا عبدالملک کے زمانہ میں،آخری بات صحیح ہے کیونکہ امیر معاویہ   ۶۰ھ؁  میں وفات پاچکے تھے۔(ازاشعہ)

۲؎  یعنی یہ کہو کہ جس کی یہ چیز ہو وہ  اس کا تھیلہ برتن اور بندھن مال کی تعداد وغیرہ بیان کرے اور ہم سے لے لے، یہ مطلب نہیں کہ تم خود ہی بتادو کہ اس مال کی مقدار یہ ہے برتن وغیرہ ایسا کہ اس صورت میں تو جھوٹے لوگ دعویٰ کریں گے کہ ہمارا مال ہے۔ (مرقات و اشعہ)

۳؎ یہ اعلان مساجد اور بازاروں مجمعوں میں وقتًا فوقتًا کیا جائے روزانہ مسلسل کرنا واجب نہیں،امام محمد و شافعی و احمد کے نزدیک ہر قسم کے لقطہ کا اعلان ایک سال کرے ان کی دلیل یہ حدیث ہے،امام اعظم و مالک کے ہاں معمولی لقطہ کا اعلان کچھ روز کرے،درمیانی کا ایک سال،اعلٰی قیمتی چیز کا تین سال،یہ فرمان عالی درمیان کے لیے ہے،ورنہ حضرت ابی ابن کعب کو تین سال اعلان کا حکم دیا گیا کہ وہاں لقطہ بہت قیمتی تھا لہذا مذہب احناف قوی ہے۔

۴؎ جوشخص لقطہ کا برتن بندھن مال کی مقدار دیگر علامات درست بیان کردے تو امام مالک و احمد کے ہاں اسے دے دینا واجب ہے مگر امام اعظم و شافعی کے ہاں اگر پانے والے کا دل گواہی دے کہ یہ سچا ہے تو دے دے،ورنہ اس مدعی سے گواہ طلب کرے گواہی لے کر دے کہ ہوسکتا ہے اس شخص نے مالک مال سے یہ اوصاف سنے ہوں اور سن کر بیان کررہا ہو اگر لقطہ پانے والا فقیر ہو تو بعد مایوسی



Total Pages: 445

Go To