$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

3032 -[17]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِبَاكُورَةِ الْفَاكِهَةِ وَضَعَهَا عَلَى عَيْنَيْهِ وَعَلَى شَفَتَيْهِ وَقَالَ: «اللَّهُمَّ كَمَا أَرَيْتَنَا أَوَّلَهُ فَأَرِنَا آخِرَهُ» ثُمَّ يُعْطِيهَا مَنْ يَكُونُ عِنْدَهُ مِنَ الصِّبْيَانِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي الدَّعْوَات الْكَبِير

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ جب آپ کے پاس نیا پھل لایا جاتا تو اسے آپ اپنی آنکھوں اور لبوں پر رکھتے ۱؎ اور عرض کرتے الٰہی جیسے تو نے ہم کو اس کی ابتداء دکھائی ہم کو اس کی انتہاء بھی دکھا ۲؎ پھر وہ پھل کسی اس بچے کو عطا فرمادیتے جو آپ کے پاس ہوتا ۳؎ (بیہقی دعوات کبیر)۴؎

۱؎ یعنی چوم کر آنکھوں سے لگاتے نعمت الہٰیہ کا احترام فرماتے ہوئے جیسے کہ پہلی بارش کے قطرے اپنے منہ و سینہ شریف پر لیتے تھے اس میں رب تعالٰی کی نعمت کی قدر دانی ہے اور اس کا شکریہ۔

۲؎ پھل کی انتہا سے مراد یا تو آخری موسم کے پھل ہیں یعنی ہماری زندگی اتنی دراز فرما کہ ہم بہار کا آخر بھی دیکھ لیں یا جنت کے پھل ہیں کہ دنیا کے پھل وہاں کا نمونہ ہیں،یعنی ہم کو ایمان و تقویٰ نصیب فرما کہ ہم آخرت میں جنت میں جائیں اور وہاں کے پھل دیکھیں اور کھائیں۔(مرقات)

۳؎  چونکہ بچوں کو پھل وغیرہ سے بہت رغبت ہوتی ہے،نیز وہ بھی انسان کا پہلا پھل ہے اس مناسبت سے پہلا پھل پہلے پھلوں کو عطا فرماتے تھے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ اﷲ تعالٰی کی نعمت کو چومنا،آنکھوں سے لگانا سنت ہے لہذا قرآن شریف، حدیث شریف،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے تبرکات چومنا سنت سے ثابت ہے،بعض روٹی چو متے ہیں،ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔ دوسرے یہ کہ کھانا ہاتھ میں لے کر یا سامنے رکھ کر اﷲ کا ذکر یا دعا کرنا سنت ہے لہذا مروجہ ختم فاتحہ بھی جائز،سنت سے ثابت ہے، اس کا ماخذ یہ حدیث بھی ہے۔سرکار عالی قربانی فرما کر جانور سامنے رکھ کر دعا کرتے تھے۔تیسرے یہ کہ ختم شریف کا پھل وغیرہ کھانا، بچوں میں تقسیم کرنا سنت سے ثابت ہے جس کی اصل یہ حدیث ہے۔چوتھے یہ کہ نئے پھل پر فاتحہ پڑھ کر بچوں میں بانٹ دینا، حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے عمل شریف سے ثابت ہے جیساکہ آج بزرگوں کا طریقہ ہے۔

۴؎ علامہ جزری نے حصن حصین شریف میں یوں روایت فرمائی کہ جب حضور انور پہلا پھل ملاحظہ فرماتے تو فرماتے "اللّٰہم بارك لنا فی ثمرنا وبارك لنا فی منا تبنا وبارك لنا فی صاعنا وبارك لنا فی مدنا"اور جب آپ کی خدمت میں وہ پھل لایا جاتا تو کسی بچہ کو عطا فرما دیتے۔(مسلم،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،عن ابی ہریرۃ از مرقات)


 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html