Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۲؎  اس سے معلوم ہوا کہ اولاد کو برابر عطیے دے،بعض کو بعض پر ترجیح نہ دے کہ کسی کو کچھ نہ دے یا کسی کو زیادہ دے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ زندگی میں لڑکی لڑکے کو برابر دے،لڑکے کا دوگنا حصہ میراث میں ہے نہ کہ عطیہ میں،بعض نے فرمایا کہ زندگی میں بھی لڑکے کو دوگنا دے اور لڑکی کو ایک حصہ۔(درمختار،شامی،وغیرہ)بعض بزرگ لڑکیوں کو دوگنا دیتے ہیں کہتے ہیں کہ لڑکیاں ماں باپ  کے گھر مہمان ہیں،لڑکے مقیم۔

۳؎  اس سے معلوم ہوا کہ باپ اولاد کو دے کر واپس لے سکتا ہے دوسرے اہل قرابت نہیں لے سکتے۔قرابت اسے مانع ہے یعنی تب تم بھی اپنے عطیہ میں فرق نہ کرو برابر دو۔

۵؎ عمرہ عین کے فتح سے،نعمان کی والدہ ہیں،بشیر کی بیوی،عبداﷲ ابن رواحہ کی بہن ہیں۔

۶؎  تاکہ عطیہ پختہ ہوجائے  تمہارےبعد اولاد کا آپس میں جھگڑا نہ ہو،آج کل جو غیر منقول جائیداد کے بیع نامہ رجسٹری کرائے جاتے ہیں اسی کی اصل یہ حدیث ہے،رجسٹری میں حکومت کو گواہ بنایا جاتا ہے۔

 ۷؎ معلوم ہواکہ نعمان تو عمرہ بنت رواحہ سے تھے باقی اور اولاد دوسری بیویوں سے جن کی مائیں فوت ہوچکی ہوں گی اس لیے یہ واقعہ ہوا۔

۸؎  اس حدیث کی بنا پر علماء فرماتے ہیں کہ باپ اپنی زندگی میں بیٹا بیٹی ساری اولاد میں برابری کرے،بیٹے کے لیے دوگنا حصہ بعد وفات ہے حتی کہ پیار محبت بلکہ چومنے میں بھی برابری کرے۔(مرقات)اگرچہ قدرتی طور پر چھوٹے بچے سے زیادہ محبت ہوتی ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو فاطمہ زہرا بہت پیاری تھیں کہ سب سے چھوٹی تھیں۔

۹؎  اس حدیث کی بنا پر امام احمد ثوری و اسحاق نے فرمایا کہ اولاد کے عطیوں میں کمی بیشی کرنا حرام ہے کیونکہ حضور انور نے اسے ظلم فرمایا ہے اور ظلم حرام ہے،ان بزرگوں کے ہاں اس صورت میں ہبہ درست ہی نہ ہوگا مگر امام ابوحنیفہ، شافعی و مالک و جمہور علماء رحمہم اﷲ کے ہاں یہ زیادتی مکروہ ہے جب کہ بلاوجہ ہو،اس میں ہبہ درست ہی ہوگا۔اس حدیث سے معلوم ہورہا ہے کہ ہبہ درست ہوگیا تھاورنہ رجوع کے کیا معنی،نیز دوسری روایات میں ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس عطیہ پر کسی اور کو گواہ بنالو،اگر یہ حرام قطعی ہوتا تو کسی اور کو گواہ بنانے کے کیا معنی۔ حضرت ابوبکر صدیق نے حضرت عائشہ صدیقہ کو اکیس وسق کھجوریں دیں جو اور اولاد کو نہ دیں،حضرت عمر نے اپنے بیٹے عاصم کو ایک دفعہ ایک خاص عطیہ دیا جو اور اولاد کو نہ دیا،عبدالرحمن ابن عوف نے اپنی بیٹی ام کلثوم کی اولاد کو خاص عطیہ دیا جو اور اولاد کو نہ دیا،تمام صحابہ نے یہ واقعات دیکھے اور کسی نے انکار نہ کیا لہذا اس کے جواز پر صحابہ کا اجماع ہوگیا۔(مرقات)خیال رہے کہ متقی بیٹے کو فاسق بیٹے سے زیادہ دینا یا غریب معذور بےد ست وپا اولاد کو دوسری امیر اولاد سے کچھ زیادہ دینا بلاکراہت درست ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3020 -[5]

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَرْجِعُ أَحَدٌ فِي هِبَتِهِ إِلَّا الْوَالِدُ مِنْ وَلَده» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کوئی شخص اپنا دیا ہوا ہبہ واپس نہ لے سوائے باپ کے اپنے بیٹے سے ۱؎ (نسائی،ابن ماجہ)

 



Total Pages: 445

Go To